المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
842. ذكر قتال ابن الزبير مع حصين بن نمير
سیدنا حصین بن نمیر کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتال کا ذکر
حدیث نمبر: 6476
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا زيادٌ الجَصَّاص، عن علي بن زيد، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عمر: انظُرْ إلى المكان الذي به ابنُ الزُّبير، فلا تمرَّ بي عليه، قال: فسَهَا الغلامُ، قال: فإذا ابنُ عمر يَنظُر إلى ابن الزُّبير مصلوبًا، فقال: يغفرُ الله لك ثلاثًا، أَمَا والله ما عَلِمتُك إلَّا كنتَ صوَّامًا قوَّامًا، وَصُولًا للرَّحِم، أما والله إني لَأرجو مع مَساوئ ما أصبتَ ألَّا يُعذِّبَك اللهُ بعدها أبدًا، ثم الْتَفتَ إليَّ فقال: سمعت أبا بكر الصِّدّيق يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ به في الدنيا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6340 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6340 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مجاہد کہتے ہیں: مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ جگہ دیکھنا جہاں پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی دی گئی ہے۔ وہ وہاں گئے، انہوں نے کہا: لڑکا بھول گیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سولی دے دی گئی تھی، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کو دیکھ رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی جانب دیکھ کر تین مرتبہ ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔ اور کہا: اللہ کی قسم! تم روزہ دار، شب زندہ دار تھے، صلہ رحمی کرنے والے تھے۔ خدا کی قسم! میں امید نہیں کرتا ہوں کہ جو تکلیف تم نے اس دنیا میں برداشت کر لی ہے، اس کے بعد اب آخرت میں تمہیں کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو برا عمل کرے اس کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6476]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6476 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف زياد الجصاص - وهو ابن أبي زياد - وعلي بن زيد بن جُدعان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے، کیونکہ اس میں زیاد بن ابی زیاد الجصاص اور علی بن زید بن جدعان دونوں ہی ضعیف راوی ہیں۔
وأخرجه المروزي في "مسند أبي بكر" (22)، والعقيلي في "الضعفاء" (506)، وأبو يعلى في "مسنده" (18)، وابن الأعرابي في "معجمه" (1339)، وأبو نعيم في "الحلية" 1/ 334 من طرق عن عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مروزی نے "مسند ابی بکر" (22)، عقیلی نے "الضعفاء" (506)، ابو یعلیٰ نے اپنی "مسند" (18)، ابن الاعرابی نے اپنے "معجم" (1339) اور ابو نعیم نے "الحلیہ" 1/ 334 میں عبد الوہاب بن عطاء الخفاف کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج المرفوع منه فقط أحمد في "المسند" 1 / (23)، والبزار (21)، والطبري في "التفسير" 5/ 294 من طريق عبد الوهاب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کا صرف "مرفوع" حصہ امام احمد نے "المسند" 1 / (23)، بزار نے "مسند بزار" (21) اور طبری نے "تفسیر طبری" 5/ 294 میں عبد الوہاب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأصل الحديث المرفوع عن أبي بكر الصديق: أنه سأل رسول الله ﷺ عن قول الله تعالى: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾، فأجابه رسول الله ﷺ أنَّ جزاءه كلُّ ما يصيبه من مرض وحَزَن ونَصَب، هكذا رواه مولى ابن سباع عن ابن عمر عن أبي بكر كما عند الترمذي (3039). وله طرق أخرى عن أبي بكر يصح بها إن شاء الله كما سلف بيانه عند المصنف برقم (4499).
📌 اہم نکتہ: اس مرفوع حدیث کی اصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول: "جو بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا" کے بارے میں سوال کیا، 🧾 تفصیلِ روایت: جس پر رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ (بندہِ مومن کے لیے) اس کی جزا وہ تمام تکلیفیں ہیں جو اسے بیماری، غم اور تھکن کی صورت میں پہنچتی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح مولیٰ ابن سباع نے ابن عمر کے واسطے سے حضرت ابوبکر سے روایت کیا ہے جیسا کہ امام ترمذی (3039) کے ہاں موجود ہے۔ اس کے دیگر طرق بھی حضرت ابوبکر سے مروی ہیں جن کی تائید سے یہ ان شاء اللہ صحیح قرار پاتی ہے، جیسا کہ مصنف (امام احمد) نے سابقہ مقام پر نمبر (4499) کے تحت بیان کیا ہے۔