🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
857. كان ابن عمر خير هذه الأمة .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس امت کے بہترین افراد میں سے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6509
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا قُتَيبة بن سعيد وأبو النَّضْر إسماعيل بن عبد الله العِجْلي قالا: حدثنا محمد بن يزيد بن حُنَيس، قال: قال عبد العزيز بن أبي رَوَّاد: حدثني نافع قال: دخل ابنُ عمر الكعبةَ، فسمعته يقول وهو ساجد: قد تَعلَمُ ما يَمنَعُني من مُزاحَمةِ قريشٍ على هذه الدنيا إلَّا خوفُك (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6370 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کعبہ میں داخل ہوئے اور سجدہ ریز ہو کر کہہ رہے تھے تو جانتا ہے کہ اس دنیا میں قریش کی مزاحمت سے محض تیرے خوف کی وجہ سے رکا ہوا ہوں ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6509]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6509 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "حلية الأولياء" 1/ 292، و"معرفة الصحابة" (4297) - ومن طريقه ابن عساكر 31/ 191 - من طريق أبي العبّاس السرّاج، عن قتيبة بن سعيد وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو ابونعیم نے "حلیۃ الاولیاء" (1/ 292) اور "معرفۃ الصحابہ" (4297) میں روایت کیا ہے، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر (31/ 191) نے ابو العباس السراج کے طریق سے، انہوں نے تنہا قتیبہ بن سعید سے، اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔