المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
861. ذكر سلمة بن الأكوع رضى الله عنه
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6524
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم بن مَصقَلة، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: سلمةُ بنُ الأكوَع، واسمُ الأكوَع سِنانُ بنُ عبد الله بن قُشَير (2) بن خُزيمة بن مالك بن سَلَامان بن أسلمَ بن أَفْصَى. ذُكِرَ عنه أنه قال: غزوتُ مع رسول الله ﷺ سبعَ غَزَواتٍ، ومع زيد بن حارثة تسعَ غَزَوات، يُؤمِّرُه رسول الله علينا (3) . قال ابن عمر: وسمعتُ أنَّ سلمة كان يُكنى أبا إياس. قال: وحدثني عبد العزيز ابن عُقبة، عن إياس بن سَلَمة قال: تُوفِّي أبي سلمةُ بن الأكوَع بالمدينة سنة أربع وسبعين وهو ابنُ ثمانين سنة (4) .
محمد بن عمر فرماتے ہیں: سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ (کے والد کا نام) سنان بن عبداللہ بن قشیر بن خزیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم بن افصی “ ہے۔ آپ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ 7 غزوات میں شرکت کی ہے۔ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ 9 غزوات میں شامل ہوا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہمارا امیر مقرر فرما دیتے تھے۔ محمد بن عمر فرماتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی کنیت ” ابوالعباس “ تھی۔ ایاس بن سلمہ فرماتے ہیں: میرے والد سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا وصال مبارک 74 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ وفات کے وقت ان کی عمر 80 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6524]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6524 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هكذا في (م)، وفي (ص) و (ب): بشير بالباء في أوله، وكلاهما قيل في اسمه كما في "تهذيب الكمال" 11/ 301.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (م) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور (ب) میں یہ شروع میں باء کے ساتھ "بشیر" ہے، اور "تہذیب الکمال" 11/ 301 کے مطابق ان کے نام میں یہ دونوں قول کہے گئے ہیں۔
(3) أخرجه البخاري (4272)، وابن حبان (7174) من طريق يزيد بن أبي عبيد عن سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: (3) اسے بخاری (4272) اور ابن حبان (7174) نے یزید بن ابی عبید کے طریق سے، سلمہ سے تخریج کیا ہے۔
(4) قال الذهبي في "تلخيصه": الظاهر أنه عاش أكثر من هذا، لأنه بايع تحت الشجرة سنة ستٍّ وهو رجل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں فرمایا: "ظاہر یہ ہے کہ وہ اس سے زیادہ عرصہ زندہ رہے، کیونکہ انہوں نے سن 6 ہجری میں (بیعتِ رضوان میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور وہ اس وقت (بالغ) مرد تھے۔"