🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. البول قائما وقاعدا
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا خالد بن عبد الله، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ مَضمَضَ واستَنشقَ من كفّ واحدٍ، فعل ذلك ثلاثًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی چلو سے کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ایسا ہی کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 658]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 658 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل الحسن بن علي بن زياد، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند حسن بن علی بن زیاد کی وجہ سے 'حسن' درجے کی ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس راوی کی متابعت (تائید) بھی موجود ہے۔
وأخرجه الترمذيّ (28) عن يحيى بن موسى، عن إبراهيم بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (28) نے یحییٰ بن موسیٰ کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم بن موسیٰ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 26/ (16445) و (16472)، والبخاري (191)، ومسلم (235)، وأبو داود (119)، وابن ماجه (405) من طرق عن خالد بن عبد الله. وهو الطحان الواسطي - به. فاستدراك الحاكم له على الشيخين ذهول منه ﵀.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 26/ (16445) اور (16472)، بخاری (191)، مسلم (235)، ابو داود (119) اور ابن ماجہ (405) نے مختلف طرق سے خالد بن عبد اللہ — جو کہ طحان واسطی ہیں — کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم رحمہ اللہ کا اس حدیث کو 'مستدرک' میں شیخین (بخاری و مسلم) پر لازم قرار دینا ان کی ذہنی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے ان میں موجود ہے۔