🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. البول قائما وقاعدا
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العَدْل وأبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي قالا: حَدَّثَنَا أحمد بن نصر، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حَدَّثَنَا معاذ بن نَجْدة القرشي، حَدَّثَنَا قَبِيصة بن عُقْبة، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أبو النَّضر الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير، حَدَّثَنَا سفيان، عن المِقْدام بن شُريح بن هانئ، عن أبيه، عن عائشة قالت: ما بالَ رسولُ الله قائمًا منذ أُنزِلَ عليه الفُرْقان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفقا على إخراج حديث الأعمش عن أبي وائل عن حُذيفة قال: أتَى رسولُ الله ﷺ سُبَاطةَ قوم فبال قائمًا (2) . وقد رُوِيَ عن عُبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: قال عمر: عمر: ما بلتُ قائمًا منذ أسلمتُ (3) . وعن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله قال: من الجفاءِ أن تبولَ وأنت قائم (1) . وقد رُوِيَ عن أبي هريرة العُذْرُ عن رسول الله ﷺ في بوله قائمًا:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں فرمایا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ شیخین نے سیدنا حذیفہ کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑے ہو کر پیشاب کرنا ثابت ہے، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں مسلمان ہوا میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا، اور سیدنا ابن مسعود اسے بدتہذیبی قرار دیتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 656]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657
حدَّثَناه أبو عَمران موسى بن سعيد الحنظلي بهَمَذان، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن ماهانَ الكَرَابيسي، حَدَّثَنَا حماد بن غسَّان الجُعْفي، حَدَّثَنَا مَعْن بن عيسى، حَدَّثَنَا مالك بن أنس، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ النَّبِيّ ﷺ بالَ قائمًا من جُرحٍ كان بمَأْبِضِه (2) .
هذا حديث تفرَّد به حماد بن غسَّان، ورواتُه كلهم ثِقات!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 645 - حماد ضعفه الدارقطني
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنے کے پچھلے حصے میں موجود زخم کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 657]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا خالد بن عبد الله، عن عمرو بن يحيى، عن أبيه، عن عبد الله بن زيد قال: رأيت النَّبِيّ ﷺ مَضمَضَ واستَنشقَ من كفّ واحدٍ، فعل ذلك ثلاثًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی چلو سے کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ایسا ہی کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس لفظ کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 658]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 659
وقد حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، عن الرَّبيع، عن الشافعي قال: إِنْ جَمَعَهما من كفٍّ واحدٍ فهو جائز، وإن فرَّقَهما فهو أحبُّ إلينا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 646 - على شرطهما
امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر ایک ہی چلو سے دونوں کام (کلی اور ناک میں پانی ڈالنا) کر لیے جائیں تو جائز ہے، لیکن اگر الگ الگ کیے جائیں تو یہ ہمیں زیادہ پسند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 659]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں