المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
73. البول قائما وقاعدا
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 657
حدَّثَناه أبو عَمران موسى بن سعيد الحنظلي بهَمَذان، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن ماهانَ الكَرَابيسي، حَدَّثَنَا حماد بن غسَّان الجُعْفي، حَدَّثَنَا مَعْن بن عيسى، حَدَّثَنَا مالك بن أنس، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ النَّبِيّ ﷺ بالَ قائمًا من جُرحٍ كان بمَأْبِضِه (2) .
هذا حديث تفرَّد به حماد بن غسَّان، ورواتُه كلهم ثِقات!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 645 - حماد ضعفه الدارقطني
هذا حديث تفرَّد به حماد بن غسَّان، ورواتُه كلهم ثِقات!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 645 - حماد ضعفه الدارقطني
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنے کے پچھلے حصے میں موجود زخم کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 657]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 657 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف تفرد به حماد بن غسان وحماد هذا قال الذهبي في "تلخيصه": ضعّفه الدارقطني. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: هو عبد الرحمن بن هُرمُز.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، اس کی روایت میں حماد بن غسان منفرد ہیں، اور ان حماد کے بارے میں امام ذہبی نے 'تلخیص' میں کہا ہے کہ امام دارقطنی نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود 'ابو الزناد' سے مراد عبد اللہ بن ذکوان ہیں، اور 'الاعرج' سے مراد عبد الرحمن بن ہرمز ہیں۔
وأخرجه أبو نعيم الأصبهاني في "الطب النبوي" (498)، والبيهقي في "السنن" 1/ 101 من طريق يحيى بن عبد الله الهمذاني الكرابيسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم اصبہانی نے 'الطب النبوی' (498) میں اور بیہقی نے 'السنن' 1/ 101 میں یحییٰ بن عبد اللہ ہمدانی کرابیسی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال البيهقي فيه: حديث لا يثبت مثله، وقال في "معرفة السنن والآثار" (842): غير قوي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بیہقی اس کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ ایسی حدیث ہے جس کی مثل ثابت نہیں ہوتی، اور انہوں نے 'معرفۃ السنن والآثار' (842) میں اسے 'غیر قوی' (کمزور) قرار دیا ہے۔
والمأبِض: باطن الركبة.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ 'المأبِض' سے مراد گھٹنے کی پچھلی جانب کا حصہ (کنجِ ران) ہے۔