🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
923. ذكر أسامة بن زيد بن حارثة حب رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم -
سیدنا اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6671
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن جُرَيج قال: أخبرني عِكرمةُ بن خالد، عن [ابن] (2) أبي عمَّار، عن شدَّاد بن الهادِ: أَنَّ رجلًا من الأعراب آمَنَ برسول الله ﷺ واتَّبَعَه، وقال: أُهاجرُ معك، فأَوصَى النبيُّ ﷺ أصحابَه به، فلما كانت غزوةُ خيبرَ -أو حُنينٍ- غَنِمَ رَسولُ الله ﷺ شيئًا فقَسَمَ وقَسَمَ له، فأعطى أصحابَه ما قَسَمَ له، وكان يَرعَى ظَهْرَهم، فلما جاء دَفَعُوه إليه، قال: ما هذا؟ قالوا: قَسْمٌ قَسَمَه لك النبيُّ، فأَخَذَه فجاءَه، فقال: يا محمدُ، ما هذا؟ قال:"قَسْمٌ قَسَمتُه لك" فقال: ما على هذا اتَّبعتُك، ولكنِّي اتَّبعتُك على أن أُرمَى هاهنا -وأشار إلى حَلْقه- بسَهُم فأموتَ وأدخُلَ الجنةَ، فقال:"إِنْ تَصدُقِ اللهَ يَصدُقْكَ"، فَلَبِثُوا قليلًا ثم نَهَضُوا (3) في قتال العدوِّ، فأُتِيَ به يُحمَلُ وقد أصابه سهمٌ حيث أشارَ، فقال رسول الله ﷺ:"أَهُوَ هُوَ؟" قالوا نعم، قال:"صَدَقَ الله فصَدَقَه"، فكفَّنه النبي ﷺ ثم قدَّمَه فصَلَّى عليه، فكان ممّا ظَهَرَ من صلاته عليه:"اللهمَّ هذا عبدُك خرج مُهاجِرًا في سبيلك، فقُتِلَ شهيدًا، فأنا عليه شهيدٌ" (4) . ذكرُ أسامة بن زيد بن حارثة حِبِّ رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6527 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ذمے لگا دیا، جب غزوہ خیبر یا حنین کا موقع آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں غنیمتیں تقسیم فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا شداد کے لئے ان کے ساتھیوں کو حصہ دیا۔ آپ ان لوگوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے، جب وہ آئے تو ان کے ساتھیوں نے ان کا حصہ ان کے سپرد کیا، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمہارے لئے بھیجا ہے، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے وہ حصہ وصول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلے آئے، آ کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس غرض سے تو آپ کی بیعت نہیں کی، پھر وہ (اپنے حلق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے) کہنے لگے: لیکن میں نے تو اس لئے بیعت کی تھی تاکہ میرے اس حلق پر تیر لگتا، میں شہید ہوتا اور جنت میں داخل ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ کی بات کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری بات پوری کرے گا۔ اس کے بعد کوئی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ دشمن کی فوج میں جا گھسے، لڑائی کے بعد جب ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو ان کے حلق کے اسی مقام پر تیر پیوست تھا جہاں پر انہوں نے اشارہ کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہ وہی شخص ہے؟ صحابہ کرام نے بتایا کہ جی ہاں یہ وہی شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ سچ کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کو کفن دیا اور ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یہ دعا مانگی اے اللہ! تیرا یہ بندہ تیری راہ میں جہاد کرنے کے لئے نکلا تھا، یہ تیری راہ میں شہید ہو گیا ہے اور میں اس کا گواہ ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6671]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6671 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) لفظ "ابن" سقط من نسخنا الخطية، واستدركناه من "مصنف عبد الرزاق" و "إتحاف المهرة" (6325). وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي عمار، الملقَّب بالقِسِّ لعبادته.
🔍 فنی نکتہ / علّت: لفظ "ابن" خطی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے "مصنف عبد الرزاق" اور "إتحاف المهرة" (6325) سے مکمل کیا گیا۔ 📌 اہم نکتہ: یہ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن ابی عمار ہیں، جنہیں کثرتِ عبادت کی وجہ سے "القِسّ" (عابد) کہا جاتا تھا۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: دحضوا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں لفظ "دحضوا" تحریف کا شکار ہو گیا ہے۔
(4) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وهو في "مصنف عبد الرزاق" (6651) و (9597)، ومن طريقه أخرجه الطبراني في "الكبير" (7108) عن إسحاق بن إبراهيم الدبري عنه، والبيهقي في "السنن" 4/ 15، وفي "دلائل النبوة" 4/ 221 - 222 من طريق أحمد بن يوسف السلمي عنه. زاد السلمي في روايته عن عبد الرزاق: قال عطاء: وزعموا أنه لم يصلِّ على أهل، أُحد، فتعقبَّه البيهقي بقوله: يحتمل أن يكون هذا الرجل بقي حيًا حتى انقطعت الحرب ثم مات فصلَّى عليه رسول الله ﷺ، والذين لم يصلَّ عليهم بأُحدٍ ماتوا قبل انقضاء الحرب، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مصنف عبد الرزاق" (6651، 9597) میں ہے، اور انہی کے طریق سے طبرانی (الکبیر 7108) اور بیہقی (السنن 4/ 15 اور دلائل النبوۃ 4/ 221-222) نے روایت کی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: احمد بن یوسف سلمی کی روایت میں عطاء کا قول ہے کہ شہدائے احد پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی گئی، جس پر امام بیہقی نے تبصرہ کیا کہ ممکن ہے یہ صحابی جنگ ختم ہونے تک زندہ رہے ہوں اور بعد میں وفات پائی ہو تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر نماز پڑھی، جبکہ جو احد میں شہید ہوئے وہ جنگ کے دوران ہی وفات پا چکے تھے۔
وأخرج الحديث النسائي (2091)، والطحاوي في "معاني الآثار" 1/ 505 - 506 من طريق عبد الله ابن المبارك، عن ابن جريج، به. قال النسائي: ما نعلم أحدًا تابع ابنَ المبارك على هذا، والصواب: ابن أبي عمار عن ابن شداد بن الهاد، وابنُ المبارك أحد الأئمة، ولعلَّ الخطأ من غيره، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (2091) اور طحاوی نے "معانی الآثار" 1/ 505-506 میں عبد اللہ بن مبارک عن ابن جریج کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام نسائی کے بقول اس لفظ پر ابن مبارک کی کسی نے متابعت نہیں کی، اور درست سند "ابن ابی عمار عن ابن شداد بن الہاد" ہے؛ چونکہ ابن مبارک امام ہیں، اس لیے غلطی کسی اور سے ہوئی ہوگی۔
قلنا: كذا قال النسائي، مع أنَّ ابن المبارك قد تابعه عبدُ الرزاق عن ابن جريج، فروايته صحيحة لا خطأَ فيها، وقد صرَّح ابن أبي عمار في رواية أحمد بن يوسف السلمي عن عبد الرزاق عند البيهقي بإخبار شداد بن الهاد له بهذا الحديث والإسناد إليه صحيح.
📌 اہم نکتہ: ہم کہتے ہیں کہ امام نسائی نے ایسا فرمایا تو ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبد الرزاق نے ابن جریج سے روایت کر کے ابن مبارک کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ روایت صحیح ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ بیہقی کے ہاں موجود روایت میں ابن ابی عمار نے صراحت کی ہے کہ شداد بن الہاد نے انہیں یہ حدیث سنائی ہے، پس اس کی سند صحیح ہے۔