🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
948. ذكر الأسود بن سريع رضى الله عنه
سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6718
حدثنا بصحةِ ما ذكره مصعبٌ: الشيخُ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي ابن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن الحسن، أنَّ الأحنف بن قيس قال: بَيْنا أنا أطوفُ بالبيت في زمن عثمانَ بن عفان إذ أخذ رجلٌ من بني ليثٍ بيدي، فقال: ألا أبشِّرُك؟ قلتُ: بلى، فقال: هل تذكرُ إذ بعثني رسولُ الله ﷺ إلى قومِك بني سعد، فجعلتُ أعرِضُ عليهم الإسلامَ وأدعوهم إليه، فقلتَ أنت: إنه يدعو إلى الخير، ويأمر به، وإنه يدعو إلى الخير ويأمرُ بالخير؟ فبلَّغتُ ذلك إلى النبيِّ ﷺ، فقال:"اللهمَّ اغفِرْ للأحنفِ بن قيس"، فكان الأحنفُ يقول: ما مِن عملِ شيءٍ أرجَى لي منه (1) . ذكرُ الأسود بن سَريع ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6573 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
احنف بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں، میں بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا، بنی لیث کے ایک آدمی نے آ کر میرا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنی سعد کی جانب بھیجا تھا اور میں نے جا کر ان کو اسلام کی دعوت پیش کی تھی، اس پر تم نے مجھے کہا تھا: بے شک تو بھلائی کی جانب بلاتا ہے اور بھلائی کا حکم دیتا ہے، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی تھی، (تمہاری یہ بات سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لئے مغفرت کی دعا فرمائی تھی۔ چنانچہ سیدنا احنف بن قیس فرمایا کرتے تھے: اس سے بڑھ کر مجھے اپنے کسی عمل پر امید نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6718]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6718 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد: وهو ابن جدعان. الحسن: هو البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند علی بن زید بن جدعان کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ یہاں الحسن سے مراد امام حسن بصری ہیں۔
وضعفه الحافظ ابن حجر في "الإصابة"، فقال: تفرَّدَ به علي بن زيد وفيه ضعف.
⚖️ درجۂ حدیث: حافظ ابن حجر نے "الإصابة" میں اسے ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے نقل کرنے میں علی بن زید اکیلے ہیں اور وہ خود ضعیف ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23161) عن سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 38/(23161) میں سلیمان بن حرب عن حماد بن سلمہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد في "الزهد" (1298)، وفي "العلل" (1791) و (5199) عن أبي عبيدة الحداد عبد الواحد بن واصل، عن عبد الله بن عون، عن جبر بن حبيب: أنَّ الأحنف بلَّغه رجلان أنّ النبيَّ ﷺ دعا له، فسجد. ورجاله ثقات، وجبر من صغار التابعين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "الزهد" (1298) اور "العلل" (1791، 5199) میں ابوعبیدہ الحداد (عبدالواحد بن واصل) کے طریق سے روایت کیا ہے کہ جبر بن حبیب کے مطابق: احنف بن قیس کو دو آدمیوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، تو (شکرانے کے طور پر) وہ سجدے میں گر پڑے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جبر بن حبیب صغارِ تابعین میں سے ہیں۔