🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1022. ذكر تسع خلال عائشة لم تكن فى غيرها
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ نو خصوصیات جو کسی اور میں نہ تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6878
حَدَّثَنَا أبو أحمد محمد بن الحسين الشَّيباني، حَدَّثَنَا أبو عبد الرحمن أحمد بن شُعيب الفقيه النَّسائي بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثني أبي، حدثني أبو العَنْبَس، عن أبيه، حدثتنا عائشةُ: أنَّ رسولَ الله ﷺ ذكر فاطمةَ، قالت: فتكلَّمتُ أنا، فقال:"أما ترضَيْنَ أن تكوني زوجتي في الدنيا والآخرة؟" قلتُ: بلى والله، قال:"فأنتِ زوجتي في الدنيا والآخرة" (1) . أبو العَنْبس هذا سعيد بن كثير مدنيٌّ ثقة، والحديث صحيح ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6729 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے کہا: (وہ تو فاطمہ کی فضیلت ہے،) میں کہاں گئی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں راضی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم دنیا آخرت میں میری بیوی ہو۔ ٭٭ اس حدیث کے راوی ابوالعنبس (کا اصل نام) سعید بن کثیر ہے، مدنی ہیں، ثقہ ہیں، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6878]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6878 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، رجاله ثقات غير والد أبي العنبس - واسمه كثير بن عبيد - فقد روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات". أبو العنبس: هو سعيد بن كثير.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے ابو العنبس کے والد کے - ان کا نام کثیر بن عبید ہے - ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو العنبس: یہ سعید بن کثیر ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (7095) عن ابن خزيمة، عن سعيد بن يحيى بن سعيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7095) نے ابن خزیمہ سے، انہوں نے سعید بن یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج الترمذي (3880)، وابن حبان (7094) من طريق عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة، عن عائشة قالت: جاء بي جبريل إلى رسول الله ﷺ في خرقة حرير، فقال: "هذه زوجتك في الدنيا والآخرة". وقال الترمذي: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3880) اور ابن حبان (7094) نے عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ کے طریق سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، وہ فرماتی ہیں: "جبرائیل امین مجھے ریشم کے ٹکڑے میں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔" ترمذی نے فرمایا: یہ حسن غریب ہے۔
وسيأتي معناه برقم (6892)، وانظر (6867).
📝 نوٹ / توضیح: اس کا مفہوم آگے نمبر (6892) پر آئے گا، اور (6867) بھی دیکھیے۔