🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1022. ذِكْرُ تِسْعِ خِلَالِ عَائِشَةَ لَمْ تَكُنْ فِي غَيْرِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ نو خصوصیات جو کسی اور میں نہ تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6879
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا أبو الخطاب زياد بن يحيى الحَسَّاني، حَدَّثَنَا مالك بن سُعير، حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، أخبرنا عبد الرحمن بن أبي (2) الضحاك: أنَّ عبد الله بن صفوان أتى عائشةَ وآخرُ معه، فقالت عائشةُ لأحدِهما: أسمعتَ حديثَ حفصةَ يا فلان؟ قال: نعم يا أمَّ المؤمنين، فقال لها عبد الله بن صفوان وما ذاكِ يا أمَّ المؤمنين؟ قالت: خِلالٌ لي تسعٌ لم يكنَّ لأحدٍ من النِّساء قبلي إلَّا ما أتى اللهُ ﷿ مريمَ بنتَ عِمران، والله ما أقولُ هذا أنِّي أفخَرُ (3) على أحدٍ من صَواحباتي، فقال لها عبد الله بن صفوان: وما هُنَّ يا أمَّ المؤمنين؟ قالت: جاء المَلَكُ بصورتي إلى رسول الله ﷺ، فتزوَّجني (1) رسولُ الله وأنا ابنةُ سبعِ سنينَ، وأُهديتُ إليه وأنا ابنةُ تسعِ سنينَ، وتزوَّجني بِكرًا لم يَشْرَكهُ فيَّ أحدٌ من الناس، وكان يأتيه الوحيُ وأنا وهو في لِحافٍ واحد، وكنتُ من أحبِّ الناس إليه، ونزل فيَّ آياتٌ من القرآن كادت الأمّةُ تَهْلِكُ فيها، ورأيتُ جبريلَ ﵇ ولم يَرَه أحدٌ من نسائِه غيري، وقُبِضَ في بيتي لم يَلِهِ أحدٌ غيرُ المَلَك إلَّا أنا (2) (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6730 - صحيح
عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ وہ اور ایک دوسرے شخص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک سے پوچھا: اے فلاں! کیا تم نے حفصہ کی بیان کردہ بات سنی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، اے ام المؤمنین! تو عبداللہ بن صفوان نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا: میری نو ایسی خصوصیات ہیں جو میرے علاوہ کسی عورت کو نہیں دی گئیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران کو عطا فرمایا، اور اللہ کی قسم میں یہ اپنی کسی ساتھی پر فخر کے طور پر نہیں کہہ رہی: 1 فرشتہ میری تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، 2 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میں سات سال کی تھی، 3 میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی، 4 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ میں کنواری تھی اور میرے علاوہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہ تھا، 5 آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اس وقت بھی نازل ہوتی جب میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی لحاف میں ہوتے تھے، 6 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی، 7 میری شان میں قرآن کی وہ آیات نازل ہوئیں جن کے معاملے میں قریب تھا کہ امت ہلاک ہو جاتی، 8 میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج میں سے کسی نے انہیں نہیں دیکھا، اور 9 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گھر میں ہوئی اور فرشتے کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریب اس وقت صرف میں ہی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6879]
تخریج الحدیث: «إسناد ضعيف، وفي بعض متنه نكارة، ووقع فيه اختلاف على إسماعيل بن أبي خالد. أما ضعفه فعبد الرحمن بن أبي الضحاك مجهول، ذكره ابن أبي حاتم 5/ 247، وسكت عنه، ولم يذكر راويًا عنه سوى إسماعيل بن أبي خالد، وذكره ابن حبان في "الثقات" 8/ 371، وقال: روى عنه محمد ...» [ترقيم الرساله 6879] [ترقيم الشركة 6799] [ترقيم العلميه 6730]

الحكم على الحديث: إسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6880
أخبرني أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوْشَب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ﴾ [النور: 23] قال: نزلت في عائشةَ خاصةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6731 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ﴾ [سورة النور: 23] کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت خاص طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6880]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 6880] [ترقيم الشركة 6800] [ترقيم العلميه 6731]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6881
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا الحسن بن مُكرَم ويحيى بن جعفر بن الزِّبْرَقان قالا: حَدَّثَنَا علي بن عاصم، حَدَّثَنَا خالد الحذَّاء، عن محمد بن سِيرِين، عن الأحنَف بن قيس قال: سمعتُ خطبةَ أبي بكر الصِّدِّيق، وعمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب والخلفاءِ هلُمَّ جرًّا إلى يومي هذا، فما سمعتُ الكلامَ من فمِ مخلوقٍ أفخمَ ولا أحسنَ منه مِن فِي عائشةَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6732 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کے خلفاء کے خطبات آج کے دن تک مسلسل سنے ہیں، مگر میں نے کسی بھی انسان کے منہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کلام سے زیادہ پرشکوہ اور خوبصورت کلام نہیں سنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6881]
تخریج الحدیث: «حسن بما يأتي برقم (6884)، وهذا إسناد ضعيف من أجل علي بن عاصم: وهو ابن صهيب الواسطي.» [ترقيم الرساله 6881] [ترقيم الشركة 6801] [ترقيم العلميه 6732]

الحكم على الحديث: إسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں