المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1043. كانت زينب مأوى المساكين لكثرة صدقاتها
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی کثرتِ صدقات کی وجہ سے مسکینوں کا ٹھکانہ (مأویٰ) تھیں
حدیث نمبر: 6937
قال: وحدثني عمر بن عثمان الجَحْشي، عن أبيه قال: ما تركَتْ زينبُ بنتُ جَحْش دينارًا ولا درهمًا، كانت تتصدَّقُ بكلِّ ما قَدَرَت عليه، وكانت مأوى المساكين، وتركت منزلَها، فباعوه من الوليد بن عبد الملك حين هَدَمَ المسجدَ بخمسين ألفَ درهم (2) .
عمر بن عثمان جحشی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (آپ فرماتے ہیں) سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کوئی درہم اور دینار وغیرہ وراثت نہیں چھوڑی، بلکہ جو چیز ان کے ہاتھ آتی، آپ وہ سب خیرات کر دیا کرتی تھیں۔ آپ مساکین کا ماویٰ و ملجا تھیں۔ انہوں نے اپنا ایک مکان چھوڑا تھا، جب مسجد کی توسیع کا کام شروع ہوا تو اس کو ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں 50000 پچاس ہزار دراہم کے عوض بیچ دیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6937]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6937 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 111 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 608. عن الواقديّ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن سعد (10/ 111) اور طبری (11/ 608) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔