🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1061. ذكر الكلابية أو الكندية
سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6979
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر (1) قال: والكلابية قد اختلف في اسمِها، فقال بعضُهم: هي فاطمة بنت الضحاك بن سفيان الكلابي. وقال بعضهم: هي عَمْرة بنت زيد بن عبيد بن رُوَاس بن كلاب بن عامر. وقال بعضُهم: هي عالية بنت ظَبْيان بن عمرو بن عوف بن كعب بن عبيد بن كلاب (2) . وقال بعضُهم: هي سَبَا (3) بنتُ سفيان بن عوف بن كعب بن عبيد بن أبي بكر بن كلاب. فقال بعضهم: ولم تكن إلَّا كِلابيةٌ واحدة، وإنما اختلف في اسمها، وقال بعضهم: بل كُنّ جميعًا، ولكن لكل واحدةٍ منهن قصة غير قصة (4) صاحبتها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6812 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں: کلابیہ کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا نام فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان کلابی ہے۔ بعض لوگوں نے کہا: ان کا نام عمرہ بنت زید بن عبید بن رواس بن کلاب بن عامر تھا۔ کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا نام سبا بنت سفیان بن عوف بن کعب بن عبید بن ابی بکر بن کلاب تھا۔ کچھ مؤرخین کا موقف یہ ہے کہ ان کا نام عالیہ بن ظبیان بعض کا کہنا ہے کہ وہ کلابیہ اکیلی ہیں۔ ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ یہ تمام الگ الگ خواتین ہیں اور ان سب کا الگ الگ ایک واقعہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6979]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6979 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عمير.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "عمیر" لکھا گیا ہے۔
(2) من قوله: وقال بعضهم: هي العالية، إلى هنا، سقط من نسخنا الخطية سوى (ز).
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کے قول: "وقال بعضهم: هي العالية" سے لے کر یہاں تک کی عبارت نسخہ (ز) کے علاوہ ہمارے تمام قلمی نسخوں سے ساقط (غائب) ہے۔
(3) كذا في النسخ الخطية: سبا، وقد سلف التعليق عليه في الترجمة السابقة.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اسی طرح "سبا" لکھا ہے، اور اس پر تبصرہ گزشتہ ترجمہ (راوی کے ذکر) میں گزر چکا ہے۔
(4) قوله: غير قصة، سقط من النسخ الخطية غير (ز).
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کا قول: "غیر قصۃ" نسخہ (ز) کے علاوہ باقی تمام قلمی نسخوں سے ساقط ہے۔