المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1066. إنفاق أبى بكر وعمر على مارية
سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6991
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن علي الأبَّار، حدثنا الحسن بن حمّادٍ سَجادةُ، حدثني يحيى بن سعيد الأموي، حدثنا أبو معاذ سليمان بن الأرقم الأنصاري، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة ﵂ قالت: أهديت مارية إلى رسول الله ﷺ ومعها ابن عمّ لها، قالت: فوقع عليها وقعةً فاستمرت حاملًا، قال: فعزلها عند ابن عمها، قال: فقال أهلُ الإفكِ والزُّور: من حاجته إلى الولد ادعى ولد غيره، قال: وكانت أمَةً قليلةَ اللبن فابتيعت له ضائنةُ لَبون فكان يُغذَّى بلَبَنِها فحسن عليه لحمُه، قالت عائشة: فدُخِلَ به على النَّبيّ ﷺ ذات يوم، فقال:"كيف ترين؟" فقلتُ: من غُذِّي بلبن الضأن ليحسُنُ لحمه، قال:"ولا الشَّبَه؟" قالت: فحملني ما يحملُ النِّساءَ من الغَيرة أن قلتُ: ما أَرَى شَبَهًا، ثم قلت: وبلغ رسول الله ﷺ ما يقول الناسُ، فقال لعليٍّ:"خُذ هذا السيف فانطلق فاضرِبْ عُنق ابن عمّ مارية حيث وجدته" قال: فانطلق فإذا هو في حائط على نخلة يخترِفُ رُطَبًا، قال: فلما نظر إلى عليّ ومعه السيفُ استقبلَتْه رِعدة، قال: فسقطتِ الخِرقةُ، فإذا هو لم يَخلُق اللهُ ﷿ له ما للرجال، شيء ممسوحٌ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6821 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6821 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ماریہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ کے طور پر دی گئی تھیں، ان کے ہمراہ ان کا چچا زاد بھائی بھی تھا (ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں: ان کے چچا زاد نے ان کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے جس کی بناء پر وہ حاملہ ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس کے چچا زاد کے ساتھ علیحدہ کر دیا، آپ فرماتی ہیں: الزام تراشی اور طعن بازی کرنے والوں نے کہا: اس کو اولاد چاہیے تھی تو اس نے کسی دوسرے کے بچے پر اپنا دعویٰ کر دیا۔ ان کی والدہ کا دودھ بہت کم آتا تھا، انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے دودھ دینے والی ایک بکری خریدی، وہ اس بکری کا دودھ پیا کرتے تھے، جس کی بناء پر ان کی صحت بہت اچھی ہو گئی تھی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کو پیش کیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیسے دیکھ رہی ہو؟ میں نے عرض کی: جس بچے کی پرورش بکری کے گوشت سے ہوئی ہو، اس کی صحت اچھی ہو ہی جاتی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مشابہت بھی نہیں ہے۔ آپ فرماتی ہیں: جیسے عورتوں کی غیرت ان کو ابھارتی ہے ایسے ہی میری غیرت نے بھی اس بات پر ابھارا کہ میں کہوں کہ مجھے تو اس میں (آپ کے ساتھ کوئی) مشابہت نظر نہیں آ رہی۔ آپ فرماتی ہیں: لوگ جو باتیں بنا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک وہ باتیں بھی پہنچ گئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ تلوار پکڑو اور ماریہ کا چچا زاد تمہیں جہاں بھی ملے اس کو قتل کر دو۔ ام المومنین فرماتی ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ چل پڑے، اس کو ایک باغ میں دیکھا، وہ کھجور کے درخت پر چڑھ کر کھجوریں اتار رہا تھا، جب اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور ان کے پاس تلوار بھی دیکھی تو اس پر لرزہ طاری ہو گیا، اس کی دھوتی کھل کر نیچے گر گئی، جب اس کو دیکھا تو اس کے پاس مردوں والی کوئی چیز ہی نہ تھی۔ (یعنی اس کا آلہ تناسل کٹا ہوا تھا) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6991]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6991 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن الأرقم. وقد سبق للحاكم أن قال عقب الرواية (638): سليمان بن أرقم ليس من شرط هذا الكتاب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "سلیمان بن ارقم" کی وجہ سے انتہائی ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔ حاکم روایت نمبر (638) کے بعد پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ "سلیمان بن ارقم اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔"
وعزاه الحافظ ابن حجر في ترجمة مأبور من "الإصابة" لابن شاهين، وضعفه بسليمان هذا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "الاصابہ" میں مأبور کے ترجمہ میں اسے ابن شاہین کی طرف منسوب کیا ہے اور اسی سلیمان کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
وقد روى هذا الخبر أنسُ بن مالك بسياق آخر، وهو عند مسلم، وسيأتي قريبًا برقمي (6994) و (6995)، فانظره.
📝 نوٹ / توضیح: یہ خبر انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے دوسرے سیاق کے ساتھ روایت کی ہے جو "صحیح مسلم" میں ہے اور عنقریب نمبر (6994) اور (6995) پر آئے گی، اسے دیکھ لیں۔
وفي الباب عن علي بإسناد حسن عند الطحاوي في "شرح المشكل" (4953)، وانظر تتمة تخريجه هناك.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے طحاوی کی "شرح مشکل الآثار" (4953) میں "حسن" سند کے ساتھ روایت موجود ہے۔ اس کی مکمل تخریج وہیں دیکھیں۔
وعن عبد الله بن عمرو عند الخرائطي في "اعتلال القلوب" (737)، والطبراني في "الكبير" (14729) وغيرهما، وفي إسناده ابن لهيعة، وفي متنه نكرة.
🧩 متابعات و شواہد: اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے خرائطی کی "اعتلال القلوب" (737) اور طبرانی کی "الکبیر" (14729) وغیرہ میں روایت ہے، لیکن اس کی سند میں "ابن لہیعہ" ہے اور اس کے متن میں "نکارت" (منکر بات) ہے۔