المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1081. ذكر وفاة رقية ودفنها
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور تدفین کا ذکر
حدیث نمبر: 7023
قال ابن إسحاق: وحدثني بعض أهل العلم: أنَّ فِتيةً من الحبشة رأوا رقيّةَ بنت رسول الله ﷺ وهي هناك مع عثمان، وكانت من أحسنِ البَشَر، وكانوا يختلفون إليها فيَنخِرُونَ (1) عَجَبًا من حُسْنها، إلى أن قتلهم الله في المعركة لما سار النجاشيُّ إلى عدوِّه. قال ابن إسحاق: ويقال: إنَّ عبد الله بن عثمان مات في جمادى الأولى سنة أربعٍ، وهو ابن ست سنين.
ابن اسحاق کہتے ہیں۔ مجھے ایک اہل علم شخص نے یہ بات بتائی ہے کہ حبشوں کے کچھ لوگوں نے سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، وہ اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھیں، آپ بہت حسین و جمیل تھیں، وہ لوگ سیدہ رقیہ کے حسن پر بہت حیران ہوتے تھے، جب نجاشی نے اپنے دشمن پر چڑھائی کی تو یہ لوگ اس معرکہ میں مارے گئے تھے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ ” سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ” عبداللہ “ کا انتقال 4 ہجری کو جمادی الاولیٰ میں ہوا۔ ان کی عمر 6 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7023]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7023 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ب): فينتخرون. وهي في النسخ كلها مهملة بلا إعجام. والنخير: مدّ الصوت والنفس في الخياشيم فيخرج صوت كأنه نغمة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں لفظ "فینتخرون" ہے۔ تمام نسخوں میں یہ بغیر نقطوں (مہملہ) کے ہے۔ "النخیر" کا مطلب نتھنوں سے آواز اور سانس کھینچنا ہے جس سے ایک خاص نغمہ نما آواز نکلتی ہے۔