المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1111. إن للزوج من المرأة لشعبة ما هي لشيء
شوہر کا بیوی پر ایک خاص حق اور تعلق ہوتا ہے
حدیث نمبر: 7080
وحدثني عليٌّ، حدَّثنا إسماعيل، حدَّثنا أبو النعمان، حدَّثنا حماد بن سلمة، عن حُميد، عن أنس، بمثله (3) .
مذکورہ بالا حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7080]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7080 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. حميد: هو الطويل. وأخرجه أحمد 20/ (12916) عن عبد الرحمن بن مهدي، وبرقم 21/ (13691) عن عفان بن مسلم، وابن حبان (2493) من طريق يزيد بن هارون، ثلاثتهم عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں حمید سے مراد "حمید الطویل" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (12916) میں عبدالرحمن بن مہدی سے، (13691) میں عفان بن مسلم سے اور ابن حبان نے (2493) میں یزید بن ہارون کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ تینوں حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 20/ (13121) عن معاذ بن معاذ وابن أبي عدي، وابنُ حبان (2587) من طريق إسماعيل بن جعفر، ثلاثتهم عن حميد، به. ولم يذكر أحد منهم عن حميد أنها حمنة، بل قالوا: فلانة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (13121) میں معاذ بن معاذ اور ابن ابی عدی سے، اور ابن حبان نے (2587) میں اسماعیل بن جعفر کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ تینوں حمید (الطویل) سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان میں سے کسی نے بھی حمید کے واسطے سے خاتون کا نام "حمنہ" ذکر نہیں کیا بلکہ "فلانہ" (ایک خاتون) کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (11986)، ومسلم (784)، وأبو داود (1312)، والنسائي (1308)، وابن حبان (2492) من طريق إسماعيل بن علية، والبخاري (1150)، ومسلم (784)، وابن ماجه (1371)، والنسائي (1308) من طريق عبد الوارث بن سعيد، كلاهما عن عبد العزيز بن صهيب، به. وعند جميعهم أنها زينب إلا في إحدى روايتي أبي داود، فقد شذَّ فيها هارونُ بن عبَّاد - وهو مستور الحال - من بين أصحاب ابن عُلية، فقال: حمنة بدلًا من زينب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11986)، مسلم (784)، ابوداؤد (1312)، نسائی (1308) اور ابن حبان (2492) نے اسماعیل بن علیہ کے طریق سے، اور بخاری (1150)، مسلم (784)، ابن ماجہ (1371) اور نسائی (1308) نے عبدالوارث بن سعید کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان تمام روایات میں خاتون کا نام "زینب" ہی مذکور ہے، سوائے ابوداؤد کی ایک روایت کے جس میں اسماعیل بن علیہ کے شاگردوں میں سے ہارون بن عباد (جو کہ مستور الحال راوی ہے) نے شذوذ اختیار کرتے ہوئے زینب کے بجائے "حمنہ" کا نام ذکر کیا ہے۔
وحاول الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 4/ 365 أن يجمع بين الروايتين بكلام غير مقنعٍ، فانظره إن شئت.
📌 اہم نکتہ: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" 4/ 365 میں ان دونوں روایتوں کے درمیان تطبیق دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ان کی کلام غیر تسلی بخش (غیر مقنع) ہے، اگر آپ چاہیں تو وہاں دیکھ سکتے ہیں۔