المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1137. ذكر حبيبة بنت أبى تجرأة - رضي الله عنها -
سیدہ حبیبہ بنت ابی تجرأہ رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7120
أخبرني مَخْلد بن جعفر، حدَّثنا محمد بن جَرير، حدثني محمد بن عمر بن علي المُقدَّمي، حدَّثنا الخليل بن عثمان (2) ، قال: سمعتُ عبد الله بن نُبَيهٍ يُحدِّث عن جدَّته صفيةَ بنت شَيْبة، عن حَبيبةَ بنت أبي تَجْراة قالت: كانت لنا صُفَّةٌ في الجاهلية، قالت: فاطَّلعتُ من كُوَّةٍ بين الصَّفا والمَروةِ، فأشرفتُ على رسول الله ﷺ، وإذا هو يَسعَى ويقولُ لأصحابه:"اسْعَوا، فإِنَّ الله تعالى كَتَبَ عليكم السَّعْيَ"، قالت: رأيتُه في شِدَّة السعي يَدورُ الإزارُ حولَ بطنِه حتى رأيتُ بياضَ إبطَيْه وفَخِذيه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6943 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6943 - لم يصح
سیدنا حبیبہ بنت تجراۃ فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں ہمارا ایک چبوترا ہوتا تھا میں نے اس کے روشن دان سے جھانک کر صفا اور فروہ کے درمیان دیکھا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سعی کر رہے تھے اور اپنے صحابہ کرام سے فرما رہے تھے، سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ سعی کی شدت کی وجہ سے آپ نے اپنا ازار اپنے پیٹ کے گرد باندھ لیا تھا حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی اور رانوں کی سفیدی دیکھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7120]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7120 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمر، والتصويب من مصدري التخريج، وهو الذي أثبته المزي في شيوخ محمد المقدمي من "تهذيب الكمال".
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف سے "عمر" لکھا گیا ہے، جبکہ تخریج کے مصادر اور امام مزی کی "تہذیب الکمال" (محمد المقدمی کے شیوخ کے ذیل میں) سے اس کی تصحیح ہوتی ہے۔
(3) حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، الخليل بن عثمان - وهو التميمي كما في رواية الطبراني - وعبد الله بن نُبيه لم نقف لهما على ترجمة. وضعفه الذهبي في "التلخيص".
⚖️ درجۂ حدیث: اپنے دیگر طرق کے مجموعے کی بنا پر یہ حدیث "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ مخصوص سند ضعیف ہے کیونکہ خلیل بن عثمان (التمیمی) اور عبداللہ بن نُبیہ کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہیں۔ امام ذہبی نے بھی "التلخیص" میں اسے ضعیف کہا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2764)، والطبراني في "الكبير" 24/ (576) من طريق محمد بن عمر المقدمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے (2764) اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" 24/ (576) میں محمد بن عمر مقدمی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔