🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1137. ذِكْرُ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي تَجْرَأَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا -
سیدہ حبیبہ بنت ابی تجرأہ رضی اللہ عنہا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7119
حدثني (3) علي بن محمد بن عُبيد الله العُمري، حدثني منصور بن عبد الرحمن، عن أمِّه (4) ، عن برَّةَ بنتِ أبي تَجْراة قالت: إنَّ رسول الله ﷺ حينَ أراد الله كرامتَه وابتداءَه بالنُّبوة، كان إذا خرجَ لحاجتِه أبعدَ حتى لا يَرَى بيتًا ويُفضي إلى الشِّعاب وبُطون الأودية، فلا يمرُّ بحَجَرٍ ولا شَجَرٍ إلَّا قالت: السلامُ عليك يا رسولَ الله، وكان يَلتفِتُ عن يمينه وعن شماله وخلفَه فلا يرى أحدًا (1) . ذكرُ حَبيبة بنتِ أبي تَجْراة ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6942 - لم يصح يعني هذا الحديث
سیدنا برہ بن ابی تجراۃ فرماتی ہیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت و تکریم کا تاج پہنایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ابتدائی ایام تھے، آپ جب قضائے حاجت کے لئے نکلتے تو بہت دور تک چلے جاتے، اتنے دور جاتے کہ جہاں کسی انسان کی نظر نہ پڑتی ہو، آپ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں وادیوں کی گہرایوں میں قضائے حاجت فرماتے تھے، آپ کسی بھی درخت یا پتھر کے قریب سے گزرتے تو ان پتھروں اور درختوں سے آواز آتی: السلام علیک یا رسول اللہ۔ آپ اپنے دائیں بائیں اور پیچھے مڑ کر دیکھتے تو کوئی انسان نظر نہ آتا (مطلب یہ کہ وہی درخت اور پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر سلام پڑھتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7119]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7120
أخبرني مَخْلد بن جعفر، حدَّثنا محمد بن جَرير، حدثني محمد بن عمر بن علي المُقدَّمي، حدَّثنا الخليل بن عثمان (2) ، قال: سمعتُ عبد الله بن نُبَيهٍ يُحدِّث عن جدَّته صفيةَ بنت شَيْبة، عن حَبيبةَ بنت أبي تَجْراة قالت: كانت لنا صُفَّةٌ في الجاهلية، قالت: فاطَّلعتُ من كُوَّةٍ بين الصَّفا والمَروةِ، فأشرفتُ على رسول الله ﷺ، وإذا هو يَسعَى ويقولُ لأصحابه:"اسْعَوا، فإِنَّ الله تعالى كَتَبَ عليكم السَّعْيَ"، قالت: رأيتُه في شِدَّة السعي يَدورُ الإزارُ حولَ بطنِه حتى رأيتُ بياضَ إبطَيْه وفَخِذيه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6943 - لم يصح
سیدنا حبیبہ بنت تجراۃ فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں ہمارا ایک چبوترا ہوتا تھا میں نے اس کے روشن دان سے جھانک کر صفا اور فروہ کے درمیان دیکھا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی دیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سعی کر رہے تھے اور اپنے صحابہ کرام سے فرما رہے تھے، سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ سعی کی شدت کی وجہ سے آپ نے اپنا ازار اپنے پیٹ کے گرد باندھ لیا تھا حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی اور رانوں کی سفیدی دیکھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 7120]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں