🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1158. ذكر فضائل هذه الأمة على سائر الأمم
دیگر تمام امتوں پر اس امت کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7162
أخبرني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا [سعيد بن] (1) منصور، حدثنا مَسلَمة بن عَلْقمة المازني، عن داود بن أبي هند، عن عامر، عن أبي هريرة قال: ثلاثٌ سمعتُهنَّ لبني تميم من رسول الله ﷺ لا أُبغِضُ تميمًا بعدَهنَّ أبدًا: كان على عائشةَ نذرُ محرَّرٍ من ولد إسماعيل، فسُبِيَ سَبْيٌ من بني العَنْبَر، فقال لعائشة:"إِنْ سَرَّكِ أن تَفِي بنَدْرِك، فأعتِقي محرَّرًا من هؤلاء"، فجعلَهم من ولد إسماعيلَ، وِجيءَ بنَعَمٍ من نَعَمِ صَدقةِ بني سعدٍ، فلمَّا رآها راعَهُ، فقال:"هذا نَعَمُ قومي"، فجعلَهم قومَه (2) ، وقال:"هم أشدُّ الناسِ قتالًا في المَلاحِم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! في ذكر فضل (1) هذه الأُمةِ على سائر الأُمَم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6986 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بنی تمیم کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تین باتیں سنی ہیں، جب سے وہ تین باتیں سنی ہیں اس کے بعد کبھی بھی ان کے بارے میں دل میں کوئی بغض نہیں رکھا۔ * ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمے ایک منت تھی، سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص آزاد کرنا تھا، بنی العنبر کا ایک آدمی قیدی ہو کر آیا، اس نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اگر آپ اپنی نذر پوری کرنا چاہتی ہیں تو ان لوگوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں، پھر اس شخص نے ان کو بنی اسماعیل سے ثابت کیا، پھر بنی سعد کے صدقہ کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ لائے گئے، جب انہوں نے ان کو دیکھا تو کہنے لگا: یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، ان کو اپنی قوم قرار دیا، اور کہنے لگا: جنگوں میں یہ لوگ سخت قتال کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7162]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7162 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، وهذه السلسلة معروفة، تكرَّرت كثيرًا عند المصنف.
📝 نوٹ / توضیح: قوسین کے درمیان موجود عبارت نسخوں سے ساقط تھی، یہ ایک معروف سلسلہِ سند ہے جو مصنف کے ہاں کثرت سے دہرایا گیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: قومي، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان، وهو الموافق لما في المصادر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں "قومی" ہے، مگر ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جو دیگر مصادر کے موافق ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مسلمة بن علقمة المازني.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور مسلمہ بن علقمہ المازنی کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه مختصرًا مسلم (2525) عن حامد بن عمر البكراوي، عن مسلمة بن علقمة المازني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2525) میں حامد بن عمر البکراوی از مسلمہ بن علقمہ مازنی کی سند سے مختصراً اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 15 / (9068)، والبخاري (2543) و (4366)، ومسلم (2525)، وابن حبان (6808) من طريق أبي زرعة، عن أبي هريرة، قال: ما زلت أحبُّ بني تميم منذ ثلاثٍ سمعتُ من رسول الله ﷺ يقول فيهم، سمعتُه يقول: "هم أشدُّ أمتي على الدجال"، قال: وجاءت صدقاتهم، فقال رسول الله ﷺ: "هذه صدقات قومنا"، وكانت سبيّة منهم عند عائشة، فقال: "أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9068)، بخاری (2543، 4366)، مسلم (2525) اور ابن حبان نے ابوزرعہ از حضرت ابوہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں تین باتوں کی وجہ سے بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنیں: 1. "وہ میری امت میں دجال پر سب سے سخت ثابت ہوں گے"۔ 2. جب ان کے صدقات آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں"۔ 3. حضرت عائشہ کے پاس ان کی ایک قیدی خاتون تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہے"۔
(1) في (ز) و (ب): فضائل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہاں لفظ "فضائل" درج ہے۔