🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1157. ذِكْرُ فَضِيلَةِ بَنِي تَمِيمٍ
بنو تمیم کی فضیلت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7162
أخبرني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا [سعيد بن] (1) منصور، حدثنا مَسلَمة بن عَلْقمة المازني، عن داود بن أبي هند، عن عامر، عن أبي هريرة قال: ثلاثٌ سمعتُهنَّ لبني تميم من رسول الله ﷺ لا أُبغِضُ تميمًا بعدَهنَّ أبدًا: كان على عائشةَ نذرُ محرَّرٍ من ولد إسماعيل، فسُبِيَ سَبْيٌ من بني العَنْبَر، فقال لعائشة:"إِنْ سَرَّكِ أن تَفِي بنَدْرِك، فأعتِقي محرَّرًا من هؤلاء"، فجعلَهم من ولد إسماعيلَ، وِجيءَ بنَعَمٍ من نَعَمِ صَدقةِ بني سعدٍ، فلمَّا رآها راعَهُ، فقال:"هذا نَعَمُ قومي"، فجعلَهم قومَه (2) ، وقال:"هم أشدُّ الناسِ قتالًا في المَلاحِم" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه! في ذكر فضل (1) هذه الأُمةِ على سائر الأُمَم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6986 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بنو تمیم کے متعلق تین ایسی باتیں سنیں جن کے بعد میں کبھی ان سے بغض نہیں رکھوں گا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر تھی، تو بنو عنبر کے چند قیدی لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اگر تم اپنی نذر پوری کرنا چاہتی ہو تو ان میں سے کسی کو آزاد کر دو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اولادِ اسماعیل میں سے قرار دیا، اور (ایک بار) بنو سعد کے صدقے کے اونٹ لائے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بھلے لگے اور فرمایا: یہ میری قوم کے اونٹ ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قوم قرار دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: وہ فتنوں اور بڑی لڑائیوں (ملاحم) میں لوگوں میں سب سے زیادہ سخت لڑنے والے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7162]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مسلمة بن علقمة المازني.» [ترقيم الرساله 7162] [ترقيم الشركة 7081] [ترقيم العلميه 6986]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7162 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، وهذه السلسلة معروفة، تكرَّرت كثيرًا عند المصنف.
📝 نوٹ / توضیح: قوسین کے درمیان موجود عبارت نسخوں سے ساقط تھی، یہ ایک معروف سلسلہِ سند ہے جو مصنف کے ہاں کثرت سے دہرایا گیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: قومي، والمثبت من النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان، وهو الموافق لما في المصادر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں "قومی" ہے، مگر ہم نے نسخہ محمودیہ کے مطابق متن قائم کیا ہے جو دیگر مصادر کے موافق ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مسلمة بن علقمة المازني.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور مسلمہ بن علقمہ المازنی کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه مختصرًا مسلم (2525) عن حامد بن عمر البكراوي، عن مسلمة بن علقمة المازني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2525) میں حامد بن عمر البکراوی از مسلمہ بن علقمہ مازنی کی سند سے مختصراً اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 15 / (9068)، والبخاري (2543) و (4366)، ومسلم (2525)، وابن حبان (6808) من طريق أبي زرعة، عن أبي هريرة، قال: ما زلت أحبُّ بني تميم منذ ثلاثٍ سمعتُ من رسول الله ﷺ يقول فيهم، سمعتُه يقول: "هم أشدُّ أمتي على الدجال"، قال: وجاءت صدقاتهم، فقال رسول الله ﷺ: "هذه صدقات قومنا"، وكانت سبيّة منهم عند عائشة، فقال: "أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9068)، بخاری (2543، 4366)، مسلم (2525) اور ابن حبان نے ابوزرعہ از حضرت ابوہریرہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ میں تین باتوں کی وجہ سے بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنیں: 1. "وہ میری امت میں دجال پر سب سے سخت ثابت ہوں گے"۔ 2. جب ان کے صدقات آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں"۔ 3. حضرت عائشہ کے پاس ان کی ایک قیدی خاتون تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ہے"۔
(1) في (ز) و (ب): فضائل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہاں لفظ "فضائل" درج ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7162 in Urdu