المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1159. شرح قوله تعالى: {كنتم خير أمة أخرجت للناس
اس امت کی فضیلت کی تشریح جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے
حدیث نمبر: 7163
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني، بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بَهْز بن حَكيم بن معاوية، عن أبيه، عن جدِّه: أنه سمع النبيِّ ﷺ في قول الله ﷿: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران:110] قال:"أنتم تُتِمُّون سبعينَ أمةً، أنتم خيرُها وأكرمُها على الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع سعيدُ بن إياس الجُرَيري بهذا في روايته عن أبيه، وأتى بزيادة في المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6987 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع سعيدُ بن إياس الجُرَيري بهذا في روايته عن أبيه، وأتى بزيادة في المتن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6987 - صحيح
بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: 110] کے بارے میں فرمایا: تم ستر امتوں کو پورا کرنے والے ہو، تم ہی سب سے بہتر ہو اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عزت والے ہو۔ یہ صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو حکیم بن معاویہ سے روایت کرنے میں سعید بن ایاس نے جریری کی متابعت کی ہے۔ اور متن میں کچھ اضافہ بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7163]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7163 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه الترمذي (3001) عن عبد بن حميد، عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن، وقد روى غير واحد هذا الحديث عن بهز بن حكيم نحو هذا، ولم يذكروا فيه: ﴿كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3001) نے عبد بن حمید از عبدالرزاق کی سند سے روایت کر کے "حسن" کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کئی راویوں نے اسے بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے مگر ان میں سے کسی نے اس آیت ﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ...﴾ کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه أحمد 33 / (20029) و (20049)، وابن ماجه (4287) و (4288) من طرق عن بهز بن حكيم به. لم يذكر أحد منهم الآية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابن ماجہ نے بہز بن حکیم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے، اور ان میں سے بھی کسی نے آیت کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه ضمن حديث مطول أحمد (20011)، والنسائي (11367) من طريق عمرو بن دينار، عن حكيم بن معاوية، به.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں امام احمد (20011) اور نسائی (11367) نے عمرو بن دینار از حکیم بن معاویہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد آنے والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔