🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. لا يقبل الله صلاة إمام يحكم بغير ما أنزل الله
اللہ اس امام کی نماز قبول نہیں فرماتا جو نازل کردہ احکامات کے خلاف فیصلہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7183
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا غسان (3) بن مالك، حدثنا عَنبَسة (4) بن عبد الرحمن، أخبرني مروان بن عبد الله مولى صفوان بن حُذيفة (5) ، عن أبيه، عن حُذيفة بن اليَمَان قال: قال رسول الله ﷺ:"أهلُ الجَوْرِ وأعوانُهم في النار" (6) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7007 - منكر
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ظالم اور ظالموں معاونین دوزخی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7183]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7183 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عتبان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کا شکار ہو کر 'عتبان' ہو گیا ہے۔
(4) المثبت من مصدري التخريج الآتيين، وهو الذي مشى عليه الحافظ المزي في ترجمته من "التهذيب"، حيث ذكر من الرواة عنه غسان بن مالك، وتبعه الحافظان الذهبي وابن حجر، وعنبسة هذا متروك الحديث، ووقع في نسخنا الخطية: عُيينة بن عبد الرحمن، وهو في طبقة عنبسة، وهو صدوق.
🔍 فنی نکتہ / علّت: جو نام ہم نے متن میں درج کیا ہے وہ درج ذیل مآخذِ تخریج سے ماخوذ ہے، اور حافظ مزی نے "تہذیب الکمال" میں اسی کو اختیار کیا ہے اور ان سے روایت کرنے والوں میں غسان بن مالک کا ذکر کیا ہے۔ حافظ ذہبی اور ابن حجر نے بھی ان کی پیروی کی ہے۔ یہ 'عنبسہ' (عنبسہ بن عبد الرحمن) متروک الحدیث ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں 'عیینہ بن عبد الرحمن' لکھا ہے، جو کہ عنبسہ کے ہم طبقہ اور 'صدوق' (سچے) راوی ہیں۔
(5) كذا في نسخنا الخطية، ووقع في "الضعفاء الكبير": مروان بن عبد الله بن صفوان بن حذيفة، وقال العقيلي: مجهول بنقل الحديث هو وأبوه، وحديثه غير محفوظ ولا يعرف إلّا به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، جبکہ "الضعفاء الکبیر" میں یہ نام 'مروان بن عبد اللہ بن صفوان بن حذیفہ' آیا ہے۔ امام عقیلی فرماتے ہیں کہ یہ اور اس کا باپ دونوں حدیث کی نقل میں 'مجہول' ہیں؛ اس کی حدیث غیر محفوظ ہے اور صرف اسی کے واسطے سے جانی جاتی ہے۔
(6) إسناده ضعيف لما سبق، وقال الذهبي في "تلخيصه": منكر. وأخرجه العقيلي في "الضعفاء والكبير" (1736) عن محمد بن أيوب، عن غسان بن مالك، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند گذشتہ وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے، اور امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے 'منکر' قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام عقیلی نے اسے "الضعفاء الکبیر" (1736) میں محمد بن ایوب عن غسان بن مالک کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو منصور بن الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (2002) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث، عن عنبسة بن عبد الرحمن، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو منصور بن دیلمی نے "مسند الفردوس" میں روایت کیا ہے جیسا کہ ابن حجر کی "الغرائب الملتقطہ" (2002) میں عبدالصمد بن عبدالوارث عن عنبسہ بن عبدالرحمن کے طریق سے مذکور ہے۔
ومعنى هذا الخبر ورد في قوله تعالى في سورة الصافات: ﴿احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ (22) مِن دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَى صِرَاطِ الجَحِيمِ﴾، وأزواجهم: أي: أشباههم وأعوانهم.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: اس روایت کا مفہوم سورہ الصافات کی اس آیت میں موجود ہے: "جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑوں کو..."۔ یہاں 'ازواجہم' سے مراد ان کے ہم مشرب (مثیل) اور ان کے مددگار و ساتھی ہیں۔