المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. قاضيان فى النار وقاض فى الجنة
دو قاضی جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا
حدیث نمبر: 7191
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عاصم بن بَهْدلة، عن يزيد بن شَرِيك: أنَّ الضَّحّاك بن قيس بَعَثَ معه بكِسْوة إلى مروان بن الحَكَم، فقال مروان للبوَّاب: انظُرْ من بالباب، قال: أبو هريرة، فأَذِن له، فقال: يا أبا هريرة، حدَّثْنا شيئًا سمعتَه من رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لَيُوشِكُ رجلٌ أن يَتمنَّى أنه خَرَّ من الثُّريّا ولم يَلِ من أمر النَّاس شيئًا" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7015 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7015 - صحيح
سیدنا یزید بن شریک سے مروی ہے کہ سیدنا ضحاک بن قیس نے انہیں مروان بن حکم کی طرف لباس دے کر بھیجا، مروان نے دربان سے پوچھا کہ دروازے پر کون ہے؟ اس نے کہا: ابوہریرہ، چنانچہ انہوں نے مروان کو اطلاع دی اور انہوں نے اجازت دے دی، مروان نے کہا: اے ابوہریرہ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ ثریا (ستارے) سے نیچے گر پڑتا مگر اس نے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری (حکمرانی) نہ لی ہوتی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7191]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7191]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، يزيد بن شريك وقع منسوبًا عند أحمد في الرواية (10927) عامريًا، وجاء عنده أيضًا في الرواية: (8901): عن رجل من بني غاضرة، وبنو غاضرة هم من بني عامر، ويزيد هذا لم نقف له على ترجمة، وفي طبقته يزيد بن شريك بن طارق التَّيمي والد إبراهيم التيمي، وهو ثقة ...» [ترقيم الرساله 7191] [ترقيم الشركة 7110] [ترقيم العلميه 7015]
الحكم على الحديث: حديث حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7191 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث حسن، يزيد بن شريك وقع منسوبًا عند أحمد في الرواية (10927) عامريًا، وجاء عنده أيضًا في الرواية: (8901): عن رجل من بني غاضرة، وبنو غاضرة هم من بني عامر، ويزيد هذا لم نقف له على ترجمة، وفي طبقته يزيد بن شريك بن طارق التَّيمي والد إبراهيم التيمي، وهو ثقة معروف. هذا، وللحديث طريق آخر، يتقوَّى به، وهو الآتي عقبَ هذا الحديث عند المصنِّف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ 'حسن' حدیث ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: 'یزید بن شریک' کو امام احمد کی روایت (10927) میں 'عامری' کہا گیا ہے، جبکہ ایک اور جگہ (8901) 'بنو غاضرہ کے ایک شخص' سے روایت ہے (بنو غاضرہ، بنو عامر ہی کی شاخ ہے)۔ اس یزید بن شریک کے حالاتِ زندگی ہمیں نہیں مل سکے۔ ان کے ہم طبقہ ایک اور 'یزید بن شریک بن طارق التیمی' (والدِ ابراہیم تیمی) ہیں جو کہ معروف ثقہ ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: اس حدیث کا ایک اور طریق بھی ہے جس سے اسے تقویت ملتی ہے، جو مصنف کے ہاں اس کے بعد آ رہا ہے۔
وأخرجه أحمد 16 / (10737) عن عبد الصمد، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (16/10737) نے عبد الصمد عن حماد بن سلمہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14 / (8901) من طريق أبي بكر بن عياش، و 16/ (10927) من طريق شيبان ابن عبد الرحمن النحوي، كلاهما عن عاصم بن بهدلة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے ابوبکر بن عیاش (14/8901) اور شیبان بن عبد الرحمن النحوی (16/10927) کے طریق سے عاصم بن بہدلہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7191 in Urdu