🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. قَاضِيَانِ فِي النَّارِ وَقَاضٍ فِي الْجَنَّةِ
دو قاضی جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7187
حدثنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا إسحاق بن محمد الفَرْوي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي المَوَالي، عن عُبيد الله بن مَوْهَب، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: قال رسولُ الله ﷺ:" [ستةٌ] (1) لعنتُهم لَعَنَهم اللهُ وكلُّ نبيٍّ مُجاب: المُكذِّبُ بقدر الله، والزائدُ في كتاب الله، والمُتسلِّطُ بالجَبَروت ليُذِلَّ ما أعزَّ الله، ويُعزَّ ما أذلَّ الله، والمُستحلُّ لحُرَمِ الله، والمستحلُّ من عِتْرتي ما حرَّم الله، والتاركُ لسُنَّتي" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7011 - الحديث منكر بمرة
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میری لعنت ہے، اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور ہر نبی کی لعنت ہے (اور ہر نبی کی دعا بھی قبول ہوتی ہے) * اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو جھٹلانے والا۔ * کتاب اللہ میں (اپنی طرف سے) اضافہ کرنے والا۔ * عوام پر زبردستی مسلط ہونے والا ظالم حکمران جو کہ ان لوگوں کو ذلیل کرے جن کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے اور ان لوگوں کو عزت دے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ذلیل ہیں۔ * اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھنے والا۔ * میری آل کا بے ادب۔ * میری سنت کا تارک (یعنی جو شخص سنت کو حقیر جانتے ہوئے اس کو چھوڑے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7187]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7188
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا شِهاب بن عبّاد، حدثنا عبد الله بن بُكير، عن حَكيم بن جُبير، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، عن النبيِّ ﷺ قال:"القضاةُ ثلاثةٌ: قاضيانِ في النار، وقاضٍ في الجنة: قاضٍ عَرَفَ الحقَّ فقضَى به فهو في الجنة، وقاضٍ عَرَفَ الحقَّ فجارَ متعمِّدًا فهو في النَّار، وقاض قَضَى بغير علمٍ فهو في النَّار" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسنادٍ صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7012 - ابن بكير الغنوي منكر الحديث قال وله شاهد صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں، ان میں سے دو قسم کے قاضی دوزخی ہیں اور ایک جنتی۔ * ایسا قاضی جس نے حقیقت حال کو جانا اور اس کے مطابق انصاف پر مبنی فیصلہ کیا۔ یہ قاضی جنتی ہے۔ * ایسا قاضی جو حقیقت حال کو جانتا ہے اور جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرتا ہے۔ یہ قاضی دوزخی ہے۔ * ایسا قاضی جو بے حقیقت حال جانے بغیر فیصلہ کرتا ہے۔ یہ قاضی بھی دوزخی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے اور وہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7189
أخبرَناه محمد بن عليّ بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو غسّان وعلي بن حَكيم، حدثنا شَريك، عن الأعمش، عن سَعْد (1) بن عُبيدة، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"قاضيانِ في النَّار، وقاضٍ في الجنَّة: قاضٍ قَضَى بالحقِّ فهو في الجنَّة، وقاضٍ قَضَى بِجَوْرٍ فهو في النَّار، وقاضٍ قَضَى بجهلِه فهو في النَّار"، قالوا: فما ذنبُ هذا الذي يَجهلُ؟ قال:"ذَنْبُه أن لا يكون قاضيًا حتى يَعلَم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7013 - على شرط مسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو قاضی دوزخی ہیں اور ایک قاضی جنتی ہے۔ ایسا قاضی جو حق کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ جنتی ہے۔ اور ایسا قاضی جو ناانصافی کرتا ہے، وہ دوزخی ہے اور ایسا قاضی جو جہالت میں فیصلہ کرتا ہے وہ بھی دوزخی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یہ قاضی جو جہالت میں فیصلہ کرتا ہے، اس کا کیا قصور ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا گناہ یہ ہے کہ جب اس کو قضاء کا علم ہی نہیں تھا تو وہ قاضی کیوں بنا؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7189]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7190
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن عمَّار الدُّهْني (3) [عن إسماعيل بن إبراهيم] (4) عن ابنة مَعقِلٍ، عن أبيها قال: قال رسول الله ﷺ:"ما من أحدٍ يكونُ على شيء من أمور هذه الأمّةِ، قلَّتْ أم كَثُرَتْ، فَلا يَعدِلُ فيهِم إِلَّا أَكبَّه الله في النَّار" (5) . هذه أمُّ مَعْقِل بنت مَعقِل بن سِنَان الأشجعي، وهو صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7014 - صحيح
سیدنا ام معقل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اس امت کے چھوٹے یا بڑے کسی بھی کام کا ذمہ دار بنایا جائے اور وہ اس میں انصاف نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے گا۔ ٭٭ یہ ام معقل، سیدنا معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7190]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7191
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا عاصم بن بَهْدلة، عن يزيد بن شَرِيك: أنَّ الضَّحّاك بن قيس بَعَثَ معه بكِسْوة إلى مروان بن الحَكَم، فقال مروان للبوَّاب: انظُرْ من بالباب، قال: أبو هريرة، فأَذِن له، فقال: يا أبا هريرة، حدَّثْنا شيئًا سمعتَه من رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لَيُوشِكُ رجلٌ أن يَتمنَّى أنه خَرَّ من الثُّريّا ولم يَلِ من أمر النَّاس شيئًا" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7015 - صحيح
یزید بن شریک کہتے ہیں: سیدنا ضحاک بن قیس نے ان کو ایک جوڑا دے کر مروان بن حکم کے پاس بھیجا، مروان نے دربان سے کہا: دیکھو، دروازے پر کون ہے؟ اس نے کہا: ابوہریرہ، مروان نے اجازت دے دی اور کہا: اے ابوہریرہ! ہمیں کوئی ایسی بات سنایئے جو آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی یہ تمنا کرے گا مجھے آسمان سے زمین پر گرا دیا جاتا لیکن مجھے لوگوں کے کسی کام کا ذمہ دار نہ بنایا جاتا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7191]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7192
حدثنا الأُستاذ أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن عبّاد (1) ابن أبي علي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال:"ويلٌ للأمراءِ وويلٌ للعُرفاء، وويلٌ للأمناء، لَيتمنَّينَّ أقوامٌ يومَ القيامة أنَّ ذوائبَهم كانت معلَّقةً بالثُّريا يَدَّلْدَلُون بينَ السماءِ والأرض، وأنهم لم يَلُوا عملًا" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7016 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہلاکت ہے امراء کے لئے، ہلاکت ہے نجومیوں کے لئے، ہلاکت ہے امانت رکھنے والوں کے لئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَحْكَامِ/حدیث: 7192]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں