المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. الخصمان يقعدان بين يدي الحاكم
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
حدیث نمبر: 7205
أخبرني الحسن بن حَليم (3) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرني مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه: أنَّ أباه عبد الله بن الزُّبير كانت بينه وبين أخيه عمرو بن الزُّبير خُصومةٌ، فدخل عبدُ الله بن الزُّبير على سعيد بن العاص وعمرُو بن الزُّبير معه على السرير، فقال سعيدٌ لعبد الله: هاهنا قال: لا، قضاءُ رسولِ الله وسنةُ رسول الله ﷺ: أَنَّ الخصمين يَقعدانِ بين يَدَي الحاكم (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7029 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7029 - صحيح
مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی ناراضگی تھی، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا سعید بن العاص کے پاس گئے، اس وقت عمرو بن زبیر ان کے پاس چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا سعید نے عبداللہ سے کہا: یہاں (بیٹھ جایئے) عبداللہ نے انکار کر دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار بھی ہے کہ فریقین حاکم کے سامنے بیٹھا کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7205]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7205 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: حكيم، وقد تكررت رواية المصنِّف عنه كثيرًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ غلطی سے "حکیم" ہو گیا ہے، جبکہ مصنف نے ان (علی بن الحکم) سے بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں۔
(4) إسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان هو عبد الله بن عثمان بن جبلة.
⚖️ درجۂ حدیث: مصعب بن ثابت کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو الموجِّہ سے مراد "محمد بن عمرو الفزاری" اور عبدان سے مراد "عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16104)، وأبو داود (3588) من طريق عبد الله بن المبارك، عن مصعب بن ثابت، عن عبد الله بن الزبير، بإسقاط ثابت.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (26/16104) اور ابوداؤد (3588) نے عبداللہ بن المبارک کے طریق سے، انہوں نے مصعب بن ثابت سے اور انہوں نے (سلسلہ نسب میں) "ثابت" کا ذکر کیے بغیر براہِ راست حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
وانظر تتمة الكلام عليه في "مسند أحمد".
📝 نوٹ / توضیح: اس پر بقیہ کلام اور تفصیلی بحث کے لیے "مسند احمد" ملاحظہ فرمائیں۔