🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. الخصمان يقعدان بين يدي الحاكم
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7210
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن أبي بكر وأحمد بن المِقدام، قالا: حدثنا الفُضيل بن سليمان، حدثنا أسامة بن زيد، حدثني عُبيد الله بن أبي رافع مولى أمِّ سَلَمة، قال: سمعتُ أمَّ سَلَمةَ تقول: كنتُ عند النبيِّ ﷺ فجاءه رجلانِ يختصمانِ في ميراثٍ بينهما، وليس لواحدٍ منهما بينِّةٌ، وقال كلُّ واحدٍ منهما لصاحبه: يا رسول الله، حَقِّي هذا الذي طلبتُه لفلان، قال:"لا، ولكن اذهبا فتَوخَّيا ثم استَهِما، ثم اقسِما، ثمَّ لْيُحلِلْ كلُّ واحدٍ منكما صاحبَه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7034 - على شرط مسلم
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، وراثت کے سلسلے میں ان کے درمیان جھگڑا تھا، لیکن کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے، ہر ایک کا موقف یہ تھا کہ یہ میرا حق ہے اور یہ میں نے فلاں سے لیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، برادرانہ طور پر حصے بناؤ، تقسیم کر لو اور تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو اس کا حصہ حلال کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7210]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7210 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده ضعيف، الفضيل بن سليمان - وهو النميري - ليِّن، وقد خالف جميعَ من رواه عن أسامة بن زيد، حيث سمَّى مولى أم سلمة عُبيدَ الله بن أبي رافع، والصوابُ رواية الجمهور عن أسامة بن زيد أنَّ اسمه عَبد الله بن رافع، كما تقدَّم في تخريج الحديث السابق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: فضیل بن سلیمان (النميری) "لین" (کمزور حافظے والے) ہیں، اور انہوں نے اسامہ بن زید سے روایت کرنے والے تمام دیگر راویوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے ام سلمہ کے مولیٰ کا نام "عبید اللہ بن ابی رافع" بتایا ہے، جبکہ صحیح بات وہی ہے جو جمہور نے اسامہ بن زید سے نقل کی ہے کہ ان کا نام "عبداللہ بن رافع" ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا۔