🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر معيشة النبى صلى الله عليه وآله وسلم
نبی کریم ﷺ کے طرزِ زندگی اور معیشت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7249
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة الدمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهرْي، عن عبيد الله بن عبد الله بن أَبي ثور، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب قال: استأذنتُ على رسول الله ﷺ، فدخلتُ عليه في مَشْرُبة وإنه لمضطجع على خَصَفَة، وإنَّ بعضَه لَعَلى التراب، وتحت رأسه وسادةٌ محشوَّةٌ ليفًا، وإنَّ فوق رأسه لإهابَ عَطِين، وفي ناحية المَشْرُبة قَرَظٌ، فسلَّمتُ عليه ثم جلستُ، فقلت: يا رسولَ الله، أنت نبيُّ الله وصفوتُه، وخِيرتُه من خلقه، وكسرى وقيصر على سُرُرِ الذَّهب وفُرُشِ الحرير والدِّيباج؟! فقال:"يا عمرُ، إنَّ أولئك قد عُجِّلَت لهم طيّباتُهم، وهي وَشِيكةُ الانقطاعِ، وإِنَّا قومٌ قد أُخِّرَت لنا طيّباتُنا في آخرتنا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7072 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے کر بالاخانے میں آپ کے پاس پہنچا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خصف (کھال کی بنی ہوئی چٹائی) پر لیٹے ہوئے تھے، آپ کے جسم مبارک کا کچھ حصہ زمین پر لگ رہا تھا، آپ کے سر کے نیچے ایک تکیہ تھا جس میں لیف بھرا ہوا تھا، آپ کے سر پر دباغت دی ہوئی کھال تھی، اور چشمے کی ایک جانب اس درخت کے پتے پڑے ہوئے تھے جس کے ساتھ کھال کو رنگا جاتا ہے۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور آپ کے قریب بیٹھ گیا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ اللہ کے نبی ہیں، اللہ کی مخلوقات میں بزرگ تر ہیں، چنے ہوئے ہیں۔ قیصر اور کسریٰ سونے کے تخت اور ریشم کے بچھونوں پر ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو آسائش کی چیزیں جلدی دے دی گئی ہیں، اور وہ سب بہت جلد ختم ہونے والا ہے جب کہ ہمارے لئے ہماری آسائش کی چیزیں آخرت کے لئے ذخیرہ کر کے رکھی گئی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7249]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7249 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق عن الزهري، وقد توبع.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے تفصیل کے ساتھ امام احمد (1/ 222)، مسلم (1479)، ترمذی (3318)، نسائی (9112) اور ابن حبان (4268) نے معمر کے طریق سے؛ بخاری (2468) نے عقیل کے طریق سے؛ بخاری (5191) اور نسائی (2453) نے شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے؛ نسائی نے صالح بن کیسان سے اور ابن حبان نے (4187) یونس بن یزید کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ پانچوں راوی اسے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 1 / (222)، ومسلم (1479) (34)، والترمذي (3318)، والنسائي (9112)، وابن حبان (4268) من طريق معمر، والبخاري (2468) من طريق عقيل، والبخاري (5191)، والنسائي (2453) من طريق شعيب بن أبي حمزة، والنسائي (2453) من طريق صالح بن كيسان، وابن حبان (4187) من طريق يونس بن يزيد، خمستهم عن الزهري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام بخاری (4913) اور مسلم (1479) نے عبید بن حنین کے طریق سے ابن عباس سے طویلًا روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا كذلك البخاري (4913)، ومسلم (1479) (31 - 33) من طريق عبيد بن حنين، عن ابن عباس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1479)، ابن ماجہ (4153) اور ابن حبان (4188) نے سماک الحنفی (ابو زمیل) کے طریق سے ابن عباس سے طویلًا و مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا مسلم (1479) (30)، وابن ماجه (4153)، وابن حبان (4188) من طريق سماك الحنفي أبي زميل، عن ابن عباس، به.
📌 اہم نکتہ: لفظ "خصفة" (صاد کی حرکت کے ساتھ) کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چٹائی کو کہتے ہیں۔
قوله: "خصفة" بالتحريك: حصير منسوج من الخوص.
📌 اہم نکتہ: "إهاب عطين" سے مراد وہ کھال ہے جس کی بو بدل چکی ہو۔
إهاب عطين جِلد متغير الريح.
📌 اہم نکتہ: "القَرَظ" کیکر کے ان پتوں کو کہا جاتا ہے جو چمڑا رنگنے (دباغت) کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
القَرَظ، بالتحريك: ورق السَّلَم يستعمل في الدباغة.
📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبد اللہ" (بڑے صیغے میں) لکھا گیا ہے، جبکہ یہ تصغیر کے ساتھ (عبید اللہ) ہونا چاہیے۔