🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ذِكْرُ مَعِيشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کے طرزِ زندگی اور معیشت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7248
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا غسّان بن مالك، حدثنا عَنْبسة بن عبد الرحمن، عن علَّاق بن أبي مسلم، قال: سمعتُ جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن أرضَى سلطانًا بسَخَطِ ربِّه ﷿، خرجَ من دين الله ﵎" (1) . تفرَّد به علَّاق بن أبي مسلم، والرُّواة إليه كلُّهم ثقات. آخر كتاب الأحكام ﷽ [كتاب الأطعمة]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7071 - تفرد به علاق والرواة إليه ثقات
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بادشاہ کو راضی کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا وہ اللہ تعالیٰ کے دین سے (باہر) نکل جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث روایت کرنے میں علاق بن ابی مسلم منفرد ہیں۔ اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7248]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7249
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرعة الدمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن الزُّهرْي، عن عبيد الله بن عبد الله بن أَبي ثور، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب قال: استأذنتُ على رسول الله ﷺ، فدخلتُ عليه في مَشْرُبة وإنه لمضطجع على خَصَفَة، وإنَّ بعضَه لَعَلى التراب، وتحت رأسه وسادةٌ محشوَّةٌ ليفًا، وإنَّ فوق رأسه لإهابَ عَطِين، وفي ناحية المَشْرُبة قَرَظٌ، فسلَّمتُ عليه ثم جلستُ، فقلت: يا رسولَ الله، أنت نبيُّ الله وصفوتُه، وخِيرتُه من خلقه، وكسرى وقيصر على سُرُرِ الذَّهب وفُرُشِ الحرير والدِّيباج؟! فقال:"يا عمرُ، إنَّ أولئك قد عُجِّلَت لهم طيّباتُهم، وهي وَشِيكةُ الانقطاعِ، وإِنَّا قومٌ قد أُخِّرَت لنا طيّباتُنا في آخرتنا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7072 - على شرط مسلم
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت لے کر بالاخانے میں آپ کے پاس پہنچا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خصف (کھال کی بنی ہوئی چٹائی) پر لیٹے ہوئے تھے، آپ کے جسم مبارک کا کچھ حصہ زمین پر لگ رہا تھا، آپ کے سر کے نیچے ایک تکیہ تھا جس میں لیف بھرا ہوا تھا، آپ کے سر پر دباغت دی ہوئی کھال تھی، اور چشمے کی ایک جانب اس درخت کے پتے پڑے ہوئے تھے جس کے ساتھ کھال کو رنگا جاتا ہے۔ میں نے آپ کو سلام کیا اور آپ کے قریب بیٹھ گیا، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ اللہ کے نبی ہیں، اللہ کی مخلوقات میں بزرگ تر ہیں، چنے ہوئے ہیں۔ قیصر اور کسریٰ سونے کے تخت اور ریشم کے بچھونوں پر ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو آسائش کی چیزیں جلدی دے دی گئی ہیں، اور وہ سب بہت جلد ختم ہونے والا ہے جب کہ ہمارے لئے ہماری آسائش کی چیزیں آخرت کے لئے ذخیرہ کر کے رکھی گئی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7249]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7250
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله (1) بن موسى أخبرنا إسرائيل، عن هِلال الوزّان، عن أبي بِشر، عن أبي وائل، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"من أكلَ طيّبًا، وعمل في سُنَّة، وأَمِنَ الناسُ بَوائِقَه، دخل الجنَّةَ" قالوا يا رسولَ الله، إنَّ هذا في أُمتك اليومَ كثير، قال:"وسيكونُ في قرونٍ بعدي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7073 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے لقمہ حلال کھایا اور سنت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہیں، وہ جنتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگ تو آپ کی امت میں بہت سارے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میرے بعد بھی ایسے لوگ بہت زیادہ ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7250]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو بشر غير منسوب، لا يعرف، تفرد بالرواية عنه هلال الوزان، وقال الترمذي في "العلل الكبير": سألت محمدًا (يعني البخاري) عن هذا الحديث فقال: لا أعرف أبا بشر هذا، وضعف الحديث.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7251
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزَيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، حدثنا الأعمش، حدثني ثابت بن عُبيد، حدثني القاسم بن محمد، قال: قالت عائشةُ: كان رسولُ الله ﷺ يدخلُ على بعضِ أزواجِه وعندها عُكَّةٌ من عسل، فيَلعَق منها لعقًا، فيجلس عندها، فأرابَهم ذلك، فقالت عائشةُ لحفصةَ ولبعض أزواج النبيِّ ﷺ، فقُلْنَ له: إنما نجدُ منك رِيحَ المَغافير، فقال:"إنها عَسَلٌ ألعَقُها عند فلانةَ، ولستُ بعائدٍ فيه" (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7074 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے جاتے، ان کے پاس شہد کا ایک ڈبہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے شہد استعمال کرتے تھے اور ان کے پاس بیٹھ جاتے۔ یہ چیز (دیگر ازواج) کو ناگوار گزرتی تھی، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام المومنین سیدہ حفصہ اور دیگر ازواج سے مشورہ کیا، اور ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہمیں آپ سے مغافیر (ایک درخت کا گوند ہے) کی بدبو آ رہی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو ابھی فلاں زوجہ کے پاس شہد استعمال کیا تھا، اب میں اس کے پاس نہیں جاؤں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7251]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وأخرجه بنحوه أحمد 43 / (25852)، والبخاري (4912) و (5267) و (6691)، ومسلم (1474) (20)، وأبو داود (3714)، والنسائي (4718) و (5584) و (8856) و (11544)، وابن حبان (4183) من طريق عطاء بن أبي رباح، عن عبيد بن عمير، عن عائشة.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7252
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن المُحرِم ببغداد، حدثنا أحمد بن إسحاق بن صالح الوزَّان، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت وحُميد (1) ، عن أنس بن مالك قال: كان لأمِّ سُلَيم قَدَحٌ، فلم أدعْ شيئًا من الشراب إلَّا قد سقيتُ رسولَ الله ﷺ فيه: العسلَ واللبنَ والنَّبيذَ والماءَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7075 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ام سلیم کے پاس ایک پیالہ ہوتا تھا، میں نے اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد، دودھ، نبیذ، پانی اور ہر طرح کے مشروبات پلائے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7252]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7253
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا بِسطامُ بن مسلم، قال: سمعتُ معاوية بن قرّة يقول: قال أبي: لقد غَبَرْنا (3) مع رسول الله ﷺ وما لنا طعامٌ إلَّا الأسودانِ، قال: وهل تدري ما الأسودانِ؟ قال: لا، قال: التمرُ والماءُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7076 - صحيح
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے بتایا ہے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے، ہمارے پاس کھانے کے لئے دو سیاہ چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا، راوی کہتے ہیں: تمہیں پتا ہے کہ سیاہ چیزیں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ راوی نے کہا: پانی اور کھجور۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7253]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "مسند الحارث بن أبي أسامة" كما في "بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث" للهيثمي (1114)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7254
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكيم، عن القاسم بن محمد، عن عائشة قالت: إن كان ليأتي على آل محمد ﷺ الشهرُ ونصفُ الشهر، وما يُوقَد في بيوتهم نارٌ لمصباحٍ ولا لغيرِه، قلت لها: ما كان يُعيشُكم؟ قالت: التمرُ والماءُ (2) .
هذا حديث على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7077 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر آدھا آدھا اور پورا پورا مہینہ گزر جاتا تھا، ان کے پاس (کھانے پکانے اور) چراغ جلانے تک کے لئے آگ نہ ہوتی تھی۔ (قاسم بن محمد کہتے ہیں) میں نے پوچھا: آپ لوگ کھاتے پیتے کیا تھے؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کھجور اور پانی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7254]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذ إسناد جيد من أجل صفوان بن عيسى وشيخه ابن عجلان.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7255
أخبرنا أحمد بن أحْيَد الفقيه ببخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن مَنيع، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا مِسْعَر، عن هِلال الوزّان، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما أكلَ محمدٌ ﷺ في يوم أكلتينِ إلَّا إحداهما تمرٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7078 - صحيح
سیدنا عروہ روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دو وقت کے کھانے میں ایک وقت کھجور ضرور ہوتی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7255]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،مسعر: هو ابن كدام، وهلال الوزان: هو ابن أبي حميد.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7256
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عبد الأعلى، أخبرنا سعيد الجُرَيري، عن عبد الله بن شَقيق، قال: جاورتُ أبا هريرة سنتين فقال: يا ابنَ شَقيق، أترى هذه الحُجَر - لحُجَرِ النبي ﷺ فوالله لقد رأيتُنا عندها وما لأحدٍ منا طعامٌ يملأ بطنَه، حتى إنَّ أحدَنا ليأخذُ الحَجَرَ فيشدُّه على أخْمَصِه بالحبل أو بالعُقْلة من العُقَل، فوالذي نفسي بيده، لقد رأيتُني وقَسَمَ النبيُّ ﷺ بيننا تمرًا، فأصاب كلَّ واحد منا سبعُ تَمَرات، وكان في سَبْعِي حَشَفَةٌ، فما يَسُرُّني تمرةٌ جيدة بها، قال: قلتُ: لِمَ يا أبا هريرة؟ قال: لأنها شَدَّتَ لي من مَضَاغي فجعلتُ أعلُكُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7079 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں: میں دو سال تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، ایک آپ نے فرمایا: اے ابن شقیق! تم اس پتھر کو دیکھ رہے ہو؟ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پتھر ہے، تو نے یہ پتھر ہمارے پاس دیکھا ہے، ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں ہوتا تھا جس سے پیٹ بھرا جا سکے، ہم پتھر لے کر کسی رسی یا کپڑے کے ساتھ اپنے پیٹ پر باندھ لیا کرتے تھے، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے آج تک یاد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھجوریں تقسیم کیں، ہر شخص کو سات سات کھجوریں ملیں، اور مجھے ساتویں کھجور کی جگہ حشفہ (کھجور کا بچا ہوا دھانسا) ملا، اس کے ملنے پر میں اتنا خوش ہوا، اس کے ملنے پر مجھے جو خوشی ہوئی، وہ عمدہ کھجور ملنے پر نہیں ہونی تھی۔ (عبداللہ بن شقیق) کہتے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ اس کا چبانا مجھے دشوار ہو رہا تھا تو میں اس کو آہستہ آہستہ چباتا رہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7256]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع عبد الأعلى»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں