🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر معيشة النبى صلى الله عليه وآله وسلم
نبی کریم ﷺ کے طرزِ زندگی اور معیشت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7256
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عبد الأعلى، أخبرنا سعيد الجُرَيري، عن عبد الله بن شَقيق، قال: جاورتُ أبا هريرة سنتين فقال: يا ابنَ شَقيق، أترى هذه الحُجَر - لحُجَرِ النبي ﷺ فوالله لقد رأيتُنا عندها وما لأحدٍ منا طعامٌ يملأ بطنَه، حتى إنَّ أحدَنا ليأخذُ الحَجَرَ فيشدُّه على أخْمَصِه بالحبل أو بالعُقْلة من العُقَل، فوالذي نفسي بيده، لقد رأيتُني وقَسَمَ النبيُّ ﷺ بيننا تمرًا، فأصاب كلَّ واحد منا سبعُ تَمَرات، وكان في سَبْعِي حَشَفَةٌ، فما يَسُرُّني تمرةٌ جيدة بها، قال: قلتُ: لِمَ يا أبا هريرة؟ قال: لأنها شَدَّتَ لي من مَضَاغي فجعلتُ أعلُكُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7079 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں: میں دو سال تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، ایک آپ نے فرمایا: اے ابن شقیق! تم اس پتھر کو دیکھ رہے ہو؟ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پتھر ہے، تو نے یہ پتھر ہمارے پاس دیکھا ہے، ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں ہوتا تھا جس سے پیٹ بھرا جا سکے، ہم پتھر لے کر کسی رسی یا کپڑے کے ساتھ اپنے پیٹ پر باندھ لیا کرتے تھے، اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے آج تک یاد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کھجوریں تقسیم کیں، ہر شخص کو سات سات کھجوریں ملیں، اور مجھے ساتویں کھجور کی جگہ حشفہ (کھجور کا بچا ہوا دھانسا) ملا، اس کے ملنے پر میں اتنا خوش ہوا، اس کے ملنے پر مجھے جو خوشی ہوئی، وہ عمدہ کھجور ملنے پر نہیں ہونی تھی۔ (عبداللہ بن شقیق) کہتے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ اس کا چبانا مجھے دشوار ہو رہا تھا تو میں اس کو آہستہ آہستہ چباتا رہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7256]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7256 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، وسماع عبد الأعلى - وهو ابن عبد الأعلى - من سعيد الجريري قبل اختلاطه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد الاعلیٰ (بن عبد الاعلیٰ) کا سعید الجریری سے سماع ان کے اختلاط (حافظہ خراب ہونے) سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ روایت معتبر ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8301) من طريق عبد الوارث بن سعيد، عن سعيد الجريري بهذا الإسناد مطولًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (14 / 8301) میں عبد الوارث بن سعید کے طریق سے سعید الجریری سے اسی سند کے ساتھ تفصیل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (8633)، والبخاري (5411) و (5441) من طريق حماد بن زيد، عن عباس الجريري، عن أبي عثمان النهدي، عن أبي هريرة بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8633) اور بخاری (5411، 5441) نے حماد بن زید کے طریق سے عباس الجریری سے، انہوں نے ابو عثمان النہدی سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
وهذه الطريق رواها شعبة عن عباس الجريري فخالف في متنه، انظرها مع تخريجها في "مسند أحمد" 13/ (7965).
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس طریق کو امام شعبہ نے بھی عباس الجریری سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے متن میں مخالفت کی ہے؛ اس کی تفصیل اور تخریج "مسند احمد" (13 / 7965) میں ملاحظہ کریں۔
وأخرجه البخاري (5441 م)، وابن حبان (4498) من طريق عاصم الأحول، عن أبي عثمان، بنحوه. لكن جعل التمرات خمسًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (5441 م) اور ابن حبان نے (4498) میں عاصم الاحول کے طریق سے، انہوں نے ابو عثمان سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: البتہ اس روایت میں کھجوروں کی تعداد (سات کے بجائے) پانچ ذکر کی گئی ہے۔