المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. إذا أكل أحدكم طعاما فليقل بسم الله
جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو "بسم اللہ" کہے
حدیث نمبر: 7265
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن خيثمة بن عبد الرحمن، عن أبي حُذيفة، عن حُذيفة، عن النبيِّ ﷺ: أنه أُتي بطعام، فجاء أعرابيٌّ كأنما يُطرَدُ، فتناول فأخذ النبيُّ ﷺ بيده، ثم جاءت جارية كأنما تُطرَدُ، فأخذ النبيُّ ﷺ بيدها، ثم قال:"إنَّ الشيطانَ لما أعيَيتُموه، جاء بالأعرابي والجارية يَستحلُّ بهما (2) الطعامَ إذا لم يُذكَر اسمُ الله عليه، باسمِ الله كُلُوا" (3) . قال الحاكم: أبو حذيفةَ هذا اسمه سلمة بن صُهيبة، وقد روى عن عائشة، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7088 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7088 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھانا پیش کیا گیا، ایک دیہاتی آیا، لگتا تھا کہ کہیں سے جلاوطن ہو کر آیا ہے، اس نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک لڑکی آئی وہ بھی کوئی جلاوطن ہی لگتی تھی، اس نے بھی ہاتھ ڈالا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، پھر فرمایا: جب تم نے شیطان کو اندھا کر دیا تو دیہاتی اور لڑکی آ گئی تاکہ وہ ان کے سبب سے اپنے لئے طعام حلال کر لے، اگر کھانا شروع کرتے وقت اس پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو (جب یاد آئے تب) بسم اللہ پڑھ کر اس کو کھا لیا کرو۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اس ابوحذیفہ کا نام ” سلمہ بن صہیب “ ہے۔ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7265]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7265 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في نسخنا الخطية: به.
📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں لفظ "بہ" درج ہے۔
(3) إسناده صحيح. سفيان: هو الثَّوري، وأبو حذيفة: هو سلمة بن صهيب، وقال: صهيبة الأرحبي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سفیان سے مراد "سفیان ثوری" اور ابو حذیفہ سے مراد "سلمہ بن صہیب" (یا صہیبہ) الارحبی ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23373)، ومسلم (2017) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38 / 23373) اور مسلم (2017) نے عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (23249)، ومسلم (2017)، وأبو داود (3766) من طريق أبي معاوية، والنسائي (6721) و (10031) من طريق عيسى بن يونس، كلاهما عن الأعمش، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (23249)، مسلم (2017) اور ابو داؤد (3766) نے ابو معاویہ کے طریق سے، اور نسائی (6721، 10031) نے عیسیٰ بن یونس کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں اسے اعمش سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے (کیونکہ یہ پہلے ہی صحیحین میں موجود ہے)۔