المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. باب الذبائح
باب: ذبیحوں کا بیان
حدیث نمبر: 7283
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك ببغداد، حدثنا الحسن بن سلَّام، حدثنا حَبَّان بن هِلال، حدثنا جَرير بن حازم، حدثنا أيوب، عن زيد بن أسلم، فلقيتُ (1) زيدَ بن أسلم فحدثني عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا أرادتْ ناقتُه أن تموت، فذبحَها بوَتِدٍ، فقلتُ له: حديدٌ؟ قال: لا، بل خشبٌ، فسأل النبيَّ ﷺ، فأمرَه بأكلِها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والإسنادُ صحيح على شرط الشيخين، وإنما لم أَحكم بالصحة على شرطهما، لأنَّ مالك بن أنس ﵀ أرسلَه في"الموطأ" عن زيد بن أسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7106 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، والإسنادُ صحيح على شرط الشيخين، وإنما لم أَحكم بالصحة على شرطهما، لأنَّ مالك بن أنس ﵀ أرسلَه في"الموطأ" عن زيد بن أسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7106 - صحيح غريب
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی اونٹنی مرنے لگی تو اس نے اس کو وتد کے ساتھ ذبح کر دیا۔ میں نے اس سے پوچھا: وہ وتد لوہے کا تھا؟ اس نے کہا: نہیں، لکڑی کا تھا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھا لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ میں نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم نہیں لگایا کیونکہ مالک بن انس نے اس میں موطا میں زید بن اسلم سے ارسال کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7283]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7283 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو جرير بن حازم.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں بات کرنے والے (قائل) جریر بن حازم ہیں۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن انفرد جرير بن حازم بجعله من حديث أبي سعيد الخدري، وقد خالفه من هو أحفظ منه وأكثر عددًا، كما سيأتي بيانه.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، مگر جریر بن حازم اسے حضرت ابو سعید خدری کی حدیث قرار دینے میں منفرد ہیں، جبکہ ان سے زیادہ صاحبِ حفظ اور بڑی تعداد میں راویوں نے ان کی مخالفت کی ہے جیسا کہ آگے واضح ہوگا۔
وأخرجه النسائي (4476)، وابن الجارود في "المنتقى" (896)، وابن عدي في "الكامل" 2/ 128 من طريق محمد بن معمر، عن حبان بن هلال، بهذا الإسناد. وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (2456)، والبيهقي 9/ 281 من طريق سليمان بن حرب، عن جرير بن حازم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (4476)، ابن الجارود (896)، ابن عدی (2/ 128)، طبرانی اور بیہقی نے جریر بن حازم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23647) من طريق سفيان الثَّوري، وأبو داود (2823) من طريق يعقوب بن عبد الرحمن الإسكندراني، كلاهما عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن رجل من بني حارثة كان يرعى لقحة … فأخذها الموت، فوجًا لبَّتها بوتد، فسأل النبي ﷺ فأمره بأكلها.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے امام احمد اور ابو داؤد نے زید بن اسلم عن عطاء بن یسار کے طریق سے روایت کیا ہے کہ: "بنی حارثہ کا ایک شخص اونٹنی چرا رہا تھا، وہ مرنے لگی تو اس نے لکڑی کی میخ (وتد) سے اس کے گلے میں چھید کر کے اسے ذبح کر لیا، پھر نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے کھانے کا حکم دیا"۔
وأخرجه مالك في "الموطأ" 2/ 489، وأخرجه عبد الرزاق (8626)، وابن أبي شيبة 4/ 254 عن سفيان بن عيينة، كلاهما (مالك وابن عيينة) عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار: أنَّ رجلًا من بني حارثة كان يرعى لحقة. فذكره بصورة المرسل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام مالک اور ابن عیینہ دونوں نے اسے زید بن اسلم عن عطاء بن یسار سے "مرسل" (صحابی کے ذکر کے بغیر) روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده، وما سيأتي عند المصنف برقم (7772) و (7792)، وانظر حديث ابن عمر في "مسند أحمد" 8/ (4597)، وما ذكرنا من شواهد له هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اس کے بعد والی روایات اور رقم (7772) و (7792) ملاحظہ کریں۔ نیز ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث "مسند احمد" (8 / 4597) میں دیکھیں جہاں ہم نے اس کے تمام شواہد ذکر کیے ہیں۔