المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. ذكاة الجنين ذكاة أمه
جنین کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہی ہے (ماں کا ذبح ہونا اس کے لیے کافی ہے)
حدیث نمبر: 7284
أخبرني أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا مسلم بن إبراهيم، أخبرنا شُعبة (ح) قال (1) : وأخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ حاضر بن مُهاجر الباهلي يقول: سمعتُ سليمان بن يَسَار يحدِّث عن زيد بن ثابت: أنَّ ذئبًا نَيَّبَ في شاة، فذبحوها بمَرْرُوةٍ، فرخَّص النبيُّ ﷺ في أكلها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7107 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7107 - صحيح
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کر کے اس کو زخمی کر دیا، ان لوگوں نے اس بکری کو مروہ میں ذبح کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت عطا فرما دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7284]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7284 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) القائل هو أبو بكر بن إسحاق.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں کلام کرنے والے شخصیت "ابو بکر بن اسحاق" ہیں۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حاضر بن مهاجر الباهلي، فقد تفرَّد بالرواية عنه شعبة، وقال أبو حاتم: مجهول.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے، البتہ یہ مخصوص سند "حاضر بن مہاجر الباہلی" کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاضر بن مہاجر سے روایت کرنے میں امام شعبہ منفرد ہیں اور امام ابو حاتم نے انہیں "مجہول" قرار دیا ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 35/ (21597)، ومن طريق أخرجه ابن حبان (5885).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 35/ (21597) میں موجود ہے، اور ایک اور طریق سے اسے ابن حبان نے (5885) میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3176)، والنسائي (4474) و (4481) من طريق محمد بن جعفر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن ماجہ (3176) اور امام نسائی نے (4474) اور (4481) میں محمد بن جعفر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث كعب بن مالك عند البخاري (2304): أنه كانت لهم غنم ترعى بسَلْع، فأبصرت جارية لنا بشاة من غنمنا موتًا، فكسرت حجرًا، فذبحتها به، فقال لهم: لا تأكلوا حتى أسأل النبي ﷺ، أو أرسل إلى النبي ﷺ من يسأله، فأمره بأكلها.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (2304) میں مروی ہے کہ: ان کی بکریاں 'سلع' پہاڑ پر چر رہی تھیں کہ ایک لونڈی نے ایک بکری کو مرتے ہوئے دیکھا، تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے اسے ذبح کر دیا، آپ ﷺ نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
وحديث محمد بن صفوان الآتي برقم (7772)، وحديث عدي بن حاتم الآتي برقم (7792).
🧩 متابعات و شواہد: مزید تائیدی روایات میں محمد بن صفوان کی حدیث (آگے رقم 7772) اور عدی بن حاتم کی حدیث (آگے رقم 7792) شامل ہیں۔
وانظر ما قبله.
📝 نوٹ / توضیح: اس سے پہلے والی عبارت ملاحظہ فرمائیں۔