المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. شَأْنُ نُزُولِ ( مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَهُوَ حَلَالٌ )
اس آیت کا شانِ نزول کہ جسے اللہ نے حلال کیا وہ حلال ہے
حدیث نمبر: 7291
أخبرني محمد بن علي (3) بن دُحيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا محمد بن شَريك المكي، عن عمرو بن دينار، عن أبي الشَّعثاء، عن ابن عباس قال: كان أهلُ الجاهلية يأكلون أشياءَ، ويتركون أشياءَ تقذُّرًا، فبعث الله تعالى نبيَّه ﷺ، وأنزلَ كتابَه وأحلَّ حلالَه، وحرَّم حرامَه، فما أحلَّ فهو حلالٌ، وما حَرَّمَ فهو حرامٌ، وما سكت [عنه] فهو عَفْوٌ؛ وتلا هذه الآية: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [الأنعام: 145] (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7113 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7113 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دورِ جاہلیت کے لوگ (اپنی پسند کے مطابق) کچھ چیزیں کھاتے تھے اور کچھ چیزوں کو ناپسندیدگی کی بنا پر چھوڑ دیتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل کی، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیا، پس جسے اللہ نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے، اور جس چیز سے اللہ نے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف (یعنی مباح) ہے؛ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ ”(اے نبی!) آپ کہہ دیں کہ جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو (کھانے والے پر) حرام ہو۔“ [سورة الأنعام: 145]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7291]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7291]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو الشعثاء: هو جابر بن زيد الأزدي. وأخرجه أبو داود (3800) من طريق الفضل بن دُكين، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 7291] [ترقيم الشركة 7209] [ترقيم العلميه 7113]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7291 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) انقلب اسمه في النسخ الخطية إلى: علي بن محمد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام الٹ کر "علی بن محمد" درج ہو گیا ہے۔
(4) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو الشعثاء: هو جابر بن زيد الأزدي. وأخرجه أبو داود (3800) من طريق الفضل بن دُكين، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابونعیم سے مراد فضل بن دکین ہیں اور ابوالشعثاء سے مراد جابر بن زید ازدی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابو داؤد (3800) نے بھی اسے فضل بن دکین کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عند المصنف (3275) من طريق سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے (3275) سفیان بن عیینہ کے طریق سے عمرو بن دینار سے گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7291 in Urdu