علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. شأن نزول ( ما أحل الله فهو حلال )
اس آیت کا شانِ نزول کہ جسے اللہ نے حلال کیا وہ حلال ہے
حدیث نمبر: 7291
أخبرني محمد بن علي (3) بن دُحيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا محمد بن شَريك المكي، عن عمرو بن دينار، عن أبي الشَّعثاء، عن ابن عباس قال: كان أهلُ الجاهلية يأكلون أشياءَ، ويتركون أشياءَ تقذُّرًا، فبعث الله تعالى نبيَّه ﷺ، وأنزلَ كتابَه وأحلَّ حلالَه، وحرَّم حرامَه، فما أحلَّ فهو حلالٌ، وما حَرَّمَ فهو حرامٌ، وما سكت [عنه] فهو عَفْوٌ؛ وتلا هذه الآية: ﴿قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا﴾ [الأنعام: 145] (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7113 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7113 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں لوگ کئی چیزیں کھا لیتے تھے اور کئی چیزیں (بلاوجہ صرف) نفرت کی بناء پر چھوڑ دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، اپنی کتاب نازل فرمائی، اس میں کچھ چیزوں کو حلال کیا اور کچھ کو حرام، چنانچہ جس چیز کو کتاب اللہ نے حلال قرار دیا، وہ حلال ہے، اور جن چیزوں کو حرام قرار دیا، وہ حرام ہیں۔ اور جن کے بارے میں خاموشی ہے وہ معاف ہیں۔ اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی: {قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ} [الأنعام: 145] ” تم فرماؤ میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7291]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو الشعثاء: هو جابر بن زيد الأزدي. وأخرجه أبو داود (3800) من طريق الفضل بن دُكين، بهذا الإسناد.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7291 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) انقلب اسمه في النسخ الخطية إلى: علي بن محمد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام الٹ کر "علی بن محمد" درج ہو گیا ہے۔
(4) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو الشعثاء: هو جابر بن زيد الأزدي. وأخرجه أبو داود (3800) من طريق الفضل بن دُكين، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابونعیم سے مراد فضل بن دکین ہیں اور ابوالشعثاء سے مراد جابر بن زید ازدی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابو داؤد (3800) نے بھی اسے فضل بن دکین کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عند المصنف (3275) من طريق سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے (3275) سفیان بن عیینہ کے طریق سے عمرو بن دینار سے گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7291 in Urdu