🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. من لبس الحرير فى الدنيا لم يلبسه فى الآخرة
جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7401
حدثني عبد الله بن سعد الحافظ، حدثنا محمد بن إبراهيم بن سعيد (1) العَبْدي، حدثنا عُبيد الله بن عمر القواريري، حدثنا حَرَميُّ بن عُمارة، حدثني الحَريش (2) بن الخِرِّيث، حدثني ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة أنها قالت: كنَّا نصنعُ لرسولِ الله ﷺ ثلاثَ أَوانٍ (3) مُخَمَّرة: إناءَ طَهُوره، وإناءً لسِواكِه، وإناءً لشرابِه (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7215 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تین برتن ڈھانپ کر رکھتے تھے۔ ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لئے، ایک برتن آپ کی مسواک کے لئے اور ایک برتن آپ کے پانی پینے کے لئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7401]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7401 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: سعد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر غلطی سے "سعد" لکھا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحريثي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف (غلطی) کے سبب "الحریثی" ہو گیا ہے۔
(3) كذا جاء في النسخ الخطية، وجاء عند من أخرج الحديث: ثلاثة آنية، وهو الوجه.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں اسی طرح درج ہے، جبکہ اس حدیث کے دیگر ائمہِ تخریج کے ہاں "ثلاثہ آنیہ" (تین برتن) کے الفاظ مروی ہیں، اور یہی درست (وجہ) ہے۔
(4) إسناده ضعيف لضعف الحريش بن الخرّيت ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے کیونکہ الحریش بن الخریت ضعیف راوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود ابن ابی ملیکہ سے مراد عبداللہ بن عبیداللہ ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (361) و (3412) عن عصمة بن الفضل ويحيى بن حكيم، عن حرمي بن عمارة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (361) اور (3412) میں عصمہ بن الفضل اور یحییٰ بن حکیم کے طریق سے، انہوں نے حرمی بن عمارہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔