المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ذكر أحاديث تحريم الخمر
شراب کی حرمت سے متعلق احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7408
حدَّثَناه أبو زكريا العنبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشّنجي، حدثنا مسدَّد بن مُسرهَد أخبرنا خالد بن عبد الله، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن: أنَّ عبد الرحمن صنعَ طعامًا، قال: فدعا ناسًا من أصحاب النبيِّ ﷺ، فيهم عليُّ بن أبي طالب فقرأ: قل يا أيها الكافرون لا أعبدُ ما تعبدون ونحنُ عابدون ما عبدتُم، فأنزل الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ (1) . هذه الأسانيد كلُّها صحيحة، والحُكْمُ لحديث سفيان الثَّوري، فإنه أحفظُ من كلِّ مَن رواه عن عطاء بن السائب.
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا اور کچھ صحابہ کرام کو دعوت پر بلایا، ان میں سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے (کھانے سے فراغت کے بعد شراب نوشی کے بعد نماز پڑھنے لگے تو نماز کے دوران سورت کافرون کی تلاوت کی اور بھولنے کی وجہ سے الفاظ یوں ادا ہوئے) {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ} [الكافرون: 2] وَنَحْنُ عَابِدُونَ مَا عَبَدْتُمْ ” فرما دیجئے! اے کافرو، میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم کرتے ہو “ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء: 43) «” اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو “ ٭٭ یہ تمام اسانید صحیح ہیں۔ اور یہ حکم سفیان ثوری کی حدیث کے بارے میں ہے۔ کیونکہ عطاء بن سائب کے شاگردوں میں یہ سب سے زیادہ مضبوط حافظے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7408]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7408 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكن سماع خالد بن عبد الله - وهو الواسطي - من عطاء بن السائب بعد اختلاطه. وصحَّ موصولًا من غير هذا الطريق في الحديثين السابقين.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ اس سند کے راوی ثقہ ہیں، لیکن خالد بن عبداللہ (الواسطی) کا عطاء بن السائب سے سماع ان کے "اختلاط" (یادداشت کی خرابی) کے بعد کا ہے۔ تاہم، گزشتہ دو احادیث میں دیگر طرق سے اس کا "موصول" ہونا صحیح ثابت ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 5/ 95، وابن المنذر في "الأوسط" (7713) من طريق حماد بن سلمة، وتمام في "فوائده" (1592) من طريق علي بن عاصم، كلاهما عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السلمي، فذكره مرسلًا. وعندهم: أنَّ الذي صلَّى بهم هو علي، إلّا رواية ابن المنذر فجاءت مبهمة: فقدَّموا رجلًا فصلى بهم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 5/ 95 میں، ابن المنذر نے "الاوسط" (7713) میں حماد بن سلمہ کے طریق سے، اور تمام الرازی نے اپنے "فوائد" (1592) میں علی بن عاصم کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں عطاء بن السائب سے اور وہ ابو عبدالرحمن السلمی سے "مرسل" روایت کرتے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان کے ہاں نماز پڑھانے والے حضرت علی ہیں، سوائے ابن المنذر کی روایت کے جو مبہم ہے جس کے الفاظ ہیں: "انہوں نے ایک شخص کو آگے کیا جس نے انہیں نماز پڑھائی"۔
وممَّن رواه هكذا مرسلًا: سفيان بن عيينة وإبراهيم بن طهمان وداود بن الزبرقان عن عطاء.
🧩 متابعات و شواہد: عطاء سے اسے "مرسل" روایت کرنے والوں میں سفیان بن عیینہ، ابراہیم بن طہمان اور داؤد بن الزبرقان بھی شامل ہیں۔
ذكر ذلك المنذري في "مختصر سنن أبي داود" 5/ 259.
📖 حوالہ / مصدر: اس بات کا تذکرہ علامہ منذری نے "مختصر سنن ابی داؤد" 5/ 259 میں کیا ہے۔