🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. شأن نزول ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح
آیت "ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے" کے شانِ نزول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7410
أخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرقندي ببُخارَى، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر الإمام، حدثنا محمد بن مَعمَر، حدثنا حُميد بن حمّاد بن أبي الخُوَار (1) ، حدثنا حمزة الزيَّات، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضرِّب، قال: قال عمرُ: اللهمَّ بيِّنْ لنا في الخمر، فنزلت: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ إلى آخر الآية، فدعا النبيُّ ﷺ عمرَ فتلاها عليه، فكأنما لم تُوافِقْ من عمر الذي أراد، فقال: اللهمَّ بيِّنْ لنا في الخمر، فنزلت: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا﴾ [البقرة:219] ، فدعا النبيُّ ﷺ عمرَ فتلاها عليه، فكأنها (2) لم تُوافِقُ من عمرَ الذي أراد، فقال: اللهمَّ بيِّنْ لنا في الخمر، فنزلت: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ حتى انتهى إلى قوله: ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾ [المائدة: 91] ، فدعا النبي ﷺ، عمرَ، فتلاها عليه، فقال عمرُ: انتَهَينا يا ربّ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7224 - هذا صحيح
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی اے اللہ! ہمیں شراب سے بچا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ (النساء: 43) اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ لیکن لگتا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جس ارادے سے دعا مانگی تھی وہ ابھی پورا نہیں ہوا تھا، انہوں نے پھر دعا مانگی اے اللہ! ہمیں شراب سے دور فرما دے تب یہ آیت نازل ہوئی: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا} [البقرة: 219] تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی، لیکن ابھی بھی لگتا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ارادے کے مطابق حکم نازل نہیں ہوا تھا، انہوں نے پھر دعا مانگی اے اللہ ہمیں شراب سے دور فرما تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ: 90) اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور یہ آیات پڑھ کر ان کو سنائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ہمارے رب، ہم اس سے رک گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7410]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7410 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ص) و (م) إلى: الحوراء.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الحوراء" لکھا گیا ہے۔
(2) في (ص): فكأنما.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں "فکأنما" (پس گویا کہ) کے الفاظ ہیں۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل حميد بن حماد بن أبي الخوار، وقد خالف أيضًا من هو أوثق منه، والصواب أنه من حديث أبي ميسرة عن عمر كما رجَّحه الدارقطني في "العلل" (207)، وسلف عند المصنف من هذا الطريق برقم (3138).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مخصوص سند حمید بن حماد بن ابی الخوار کی وجہ سے "ضعیف" ہے، انہوں نے ثقہ راویوں کی مخالفت بھی کی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ یہ "ابو میسرہ عن عمر" کی روایت ہے جیسا کہ امام دارقطنی نے "العلل" (207) میں اسے راجح قرار دیا ہے؛ یہ مصنف کے ہاں پہلے اسی طریق سے نمبر (3138) پر گزر چکی ہے۔
أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السبيعي.
📝 نوٹ / توضیح: ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبداللہ السبیعی" ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (1464) عن أحمد بن محمد بن صدقة، عن محمد بن معمر البحراني بهذا الإسناد. وقال عقبه: لم يرو هذا الحديث عن أبي إسحاق عن حارثة إلا حمزة، ولا عن حمزة إلَّا حميد، تفرَّد به محمد بن معمر، ورواه الناس عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة عمرو بن شرحبيل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الاوسط" (1464) میں احمد بن محمد بن صدقہ کے طریق سے، انہوں نے محمد بن معمر البحرانی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام طبرانی نے اس کے بعد فرمایا: ابو اسحاق سے بحوالہ حارثہ یہ حدیث صرف حمزہ نے روایت کی ہے، اور حمزہ سے صرف حمید نے؛ محمد بن معمر اس میں منفرد (اکیلے) ہیں۔ جبکہ عام لوگوں نے اسے "ابو اسحاق عن ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل" کے طریق سے روایت کیا ہے۔