🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بر أمك ثم أباك ثم الأقرب فالأقرب
اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، پھر باپ کے ساتھ، پھر جو زیادہ قریبی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7429
حدَّثَناه دَعلَج بن أحمد السِّجزيُّ، حدثنا عبد العزيز بن معاوية، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثني عبيد الله بن الوازِع وحمّاد بن سَلَمة، عن أبي قَزْعَة سُوَيد بن حُجَير الباهلي، عن حَكيم بن معاوية (2) ، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، من أبَرُّ؟ قال:"أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم مَن؟ قال:"ثم أُمَّك" قلت: ثم من؟ قال:"ثم أباك، ثم الأقربَ فالأقربَ (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: ثم وَجَدنا لهذا الحديث شواهدَ: فمنها:
سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنی ماں کے ساتھ، میں نے عرض کیا: پھر کس کے ساتھ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہو، پھر جو اس کے بعد زیادہ قریب ہو۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہمیں اس حدیث کے شواہد ملے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7429]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. ولم نقف عليه من هذا الطريق.» [ترقيم الرساله 7429]

الحكم على الحديث: إسناده حسن.
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7429 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) أُقحم هنا في النسخ الخطية عن جده، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں الفاظ "عن جدہ" (ان کے دادا سے) زبردستی داخل ہو گئے ہیں (جو کہ غلط ہیں)، جبکہ امام ذہبی کی "التلخیص" میں یہ عبارت درست انداز میں آئی ہے۔
(3) إسناده حسن. ولم نقف عليه من هذا الطريق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: تاہم ہمیں یہ روایت اس خاص طریق (سند) سے نہیں ملی۔
لكن أخرجه الطبراني في "الصغير" (626)، وأبو نعيم في "تاريخ أصبهان" 2/ 68 من طريق إبراهيم بن طهمان عن مهران بن حكيم بن معاوية - وهو أخو بهز - عن أبيه، عن جده، به. وقال الطبراني: لم يروه عن مهران إلَّا إبراهيم، ولم يسند مهران حديثًا غير هذا.
📖 حوالہ / مصدر: لیکن اسے امام طبرانی نے "المعجم الصغیر" (626) میں اور ابو نعیم نے "تاریخ اصبہان" (2/ 68) میں ابراہیم بن طہمان کے طریق سے روایت کیا ہے، وہ مہران بن حکیم بن معاویہ سے - جو کہ بہز کے بھائی ہیں - وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام طبرانی فرماتے ہیں: اسے مہران سے سوائے ابراہیم کے کسی نے روایت نہیں کیا، اور مہران نے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث مرفوعاً (مسنداً) بیان نہیں کی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7429 in Urdu