🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة
جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7515
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار، حدّثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القُرشيّ، حدّثنا أبو عاصم، حدّثنا جعفر بن يحيى، عن عُمارة بن ثَوْبان، عن عطاء، عن ابن عباس، أنَّ النبيّ ﷺ قال:"خيرُكم خيرُكم للنساء" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7327 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو عورتوں (یعنی اپنی بیویوں) کے حق میں اچھا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7515]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7515 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جعفر بن يحيى - وهو ابن ثوبان الحجازي - وشيخه عمارة بن ثوبان مجهولان. أبو عاصم هو الضحاك بن مخلد النبيل.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: جبکہ یہ اسناد ضعیف ہے، کیونکہ جعفر بن یحییٰ (جو ابن ثوبان حجازی ہیں) اور ان کے شیخ عمارہ بن ثوبان دونوں مجہول ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو عاصم سے مراد ضحاک بن مخلد نبیل ہیں۔
وأخرجه بنحوه ابن ماجه (1977)، وابن حبان (4186) من طرق عن أبي عاصم النبيل، بهذا الإسناد. وذُكر في رواية ابن حبان سبب ورود الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی کی مثل ابن ماجہ (1977) اور ابن حبان (4186) نے ابو عاصم نبیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن حبان کی روایت میں حدیث کے ورود کا سبب بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ويشهد له حديث عائشة عند الترمذيّ (3895)، وابن حبان (4177)، ورجاله ثقات لكن اختُلف في وصله وإرساله.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہوتی ہے جو ترمذی (3895) اور ابن حبان (4177) کے پاس ہے۔ اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے۔
وحديث أبي هريرة عند أحمد 12/ (7402)، وسنده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: نیز سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (تائید کرتی ہے) جو مسند احمد 12/ (7402) میں ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔