المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة
جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی
حدیث نمبر: 7516
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا محمد بن فُضيل، حدّثنا عبد الله بن عبد الرحمن الضَّبيّ، حدّثنا مُساوِر بن عبد الله الحِميريّ، عن أمِّه، قالت: سمعتُ أمَّ سلمة تقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"أيُّما امرأةٍ ماتت وزوجها عنها راضٍ، دخلت الجنَّةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7328 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7328 - صحيح
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس پر راضی ہو، وہ عورت جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7516]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7516 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، مساور بن عبد الله الحميري وأمه مجهولان، وقال الذهبي في الميزان: خبره منكر. وانظر "علل الترمذيّ" (697).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی اسناد ضعیف ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: مساور بن عبد اللہ حمیری اور ان کی والدہ دونوں مجہول ہیں۔ ذہبی نے "المیزان" میں کہا ہے: اس کی خبر منکر ہے۔ "علل الترمذی" (697) بھی دیکھیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1854)، والترمذيّ (1161) من طريقين عن محمد بن فضيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1854) اور ترمذی (1161) نے محمد بن فضیل سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذيّ: حسن غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف عند أحمد (3/ 1661)، ولفظه: "إذا صلَّت المرأة خمسها، وصامت شهرها، وحفظت فرجها، وأطاعت زوجها، قيل لها: ادخلي الجنة من أي أبواب الجنة شئت، وهو حديث حسن بشواهده.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو مسند احمد (3/ 1661) میں ہے، اس کے الفاظ ہیں: "جب عورت اپنی پانچ (نمازیں) پڑھے، اپنے مہینے (رمضان) کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اس سے کہا جائے گا: جنت کے جس دروازے سے چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے۔
وحديث عمة حصين بن محصن قال لها النبيّ ﷺ: "انظري أين أنتِ منه، فإنما هو جنّتك ونارك"، انظره وتخريجه في "المسند" (31/ 19003).
🧩 متابعات و شواہد: اور حصین بن محصن کی پھوپھی کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: "دیکھو تمہارا ان (شوہر) کے ساتھ کیسا معاملہ ہے، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری جہنم ہے"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے اور اس کی تخریج کو "المسند" (31/ 19003) میں دیکھیں۔