المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. حَدِيثُ مُنَاظَرَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7555
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى المَدائني، حَدَّثَنَا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حَدَّثَنَا عِكْرمة بن عمّار العِجلي، حدثني أبو زُمَيل، حدثني عبد الله بن الدُّؤَل، حدثني عبد الله بن عباس قال: لما خرجتِ الحَرُوريَّةُ اجتمعوا في دارٍ وهُم (1) ستةُ آلاف، أتيتُ عليًّا فقلتُ: يا أميرَ المؤمنين، أبرِدْ بالصلاة، لعلِّي آتي هؤلاء القومَ فأُكلِّمَهم، قال: إنِّي أخافُ عليك، قال: قلتُ: كلّا، قال: فخرجتُ إليهم ولبستُ أحسن ما يكون من حُلَلِ اليمن - قال أبو زُميل: وكان ابن عباس جميلًا جهيرًا - قال ابن عَبَّاس: فأتيتُهم وهم مجتمِعون في دارٍ وهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، قالوا: مرحبًا بك يا ابنَ عباس، فما هذه الحُلَّة؟ قلتُ: ما تَعِيبُون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، وقرأتُ ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ؛ ثم ذكر مناظرةَ ابن عباس المشهورة معهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حروریہ (خوارج) نکلے تو وہ ایک گھر میں جمع ہوئے اور وہ چھ ہزار تھے، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے امیر المومنین! نماز کو ذرا ٹھنڈا کر کے (تاخیر سے) پڑھیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے بات کروں۔ انہوں نے کہا: مجھے آپ کے متعلق اندیشہ ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں، (ابوزمیل کہتے ہیں کہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما خوبصورت اور بلند آواز والے تھے، ابن عباس کہتے ہیں کہ میں یمن کے بہترین لباس زیب تن کر کے ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! یہ لباس کیسا ہے؟ میں نے کہا: تم مجھ پر کیا عیب لگاتے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہترین لباس دیکھے ہیں، اور میں نے یہ آیت تلاوت کی ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ ”آپ کہئے کہ اللہ کے اس لباس و زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے حرام کیا ہے؟“ [سورة الأعراف: 32] پھر انہوں نے ان کے ساتھ اپنا مشہور مناظرہ ذکر کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7555]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7555]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن عيسى المدائني، وقد خالف فيه الثقات، فزاد بين أبي زميل» [ترقيم الرساله 7555] [ترقيم الشركة 7464] [ترقيم العلميه 7368]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7555 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (م): في دارهم.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص) اور (م) میں: "فی دارہم" کے الفاظ ہیں۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن عيسى المدائني، وقد خالف فيه الثقات، فزاد بين أبي زميل - وهو سماك بن الوليد الحنفي - وابنِ عباس عبدَ الله بنَ الدؤل، وابن الدؤل هذا لم نعرفه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند محمد بن عیسیٰ مدائنی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے اس میں ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے اور ابو زمیل (سماک بن ولید حنفی) اور ابن عباس کے درمیان "عبد اللہ بن دؤل" کا اضافہ کیا ہے، اور اس ابن دؤل کو ہم نہیں پہچانتے۔
وسلف على الصواب بدون ذكر ابن الدؤل برقم (2688) من طريق أبي أمية محمد بن إبراهيم الطرسوسي عن عمر بن يونس اليمامي.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت ابن دؤل کے ذکر کے بغیر درست سند کے ساتھ نمبر (2688) پر ابو امیہ محمد بن ابراہیم طرسوسی کے طریق سے گزر چکی ہے، جو عمر بن یونس یمامی سے روایت کرتے ہیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7555 in Urdu