🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. حديث مناظرة ابن عباس مع الحرورية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حروریہ (خوارج) کے ساتھ مناظرے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7555
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى المَدائني، حَدَّثَنَا عمر بن يونس بن القاسم اليَمَامي، حَدَّثَنَا عِكْرمة بن عمّار العِجلي، حدثني أبو زُمَيل، حدثني عبد الله بن الدُّؤَل، حدثني عبد الله بن عباس قال: لما خرجتِ الحَرُوريَّةُ اجتمعوا في دارٍ وهُم (1) ستةُ آلاف، أتيتُ عليًّا فقلتُ: يا أميرَ المؤمنين، أبرِدْ بالصلاة، لعلِّي آتي هؤلاء القومَ فأُكلِّمَهم، قال: إنِّي أخافُ عليك، قال: قلتُ: كلّا، قال: فخرجتُ إليهم ولبستُ أحسن ما يكون من حُلَلِ اليمن - قال أبو زُميل: وكان ابن عباس جميلًا جهيرًا - قال ابن عَبَّاس: فأتيتُهم وهم مجتمِعون في دارٍ وهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، قالوا: مرحبًا بك يا ابنَ عباس، فما هذه الحُلَّة؟ قلتُ: ما تَعِيبُون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، وقرأتُ ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ، وَالطَّيَّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ؛ ثم ذكر مناظرةَ ابن عباس المشهورة معهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7368 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب حروریہ نے بغاوت کی، تو وہ لوگ ایک حویلی میں جمع ہو گئے، ان کی تعداد 6 ہزار تھی، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے امیرالمومنین! آپ نماز ذرا لیٹ پڑھائیے گا، میں ان لوگوں کے پاس جا کر مذاکرات کر کے آتا ہوں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تمہاری جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا: آپ مت گھبرائیے، آپ فرماتے ہیں: میں یمن کا انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب جبہ زیب تن کر کے ان کے پاس آ گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بہت خوبصورت حسین و جمیل جوان تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ان لوگوں کے پاس آیا، وہ لوگ ایک حویلی میں جمع تھے، اور وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ جبہ کہاں سے آیا؟ میں نے کہا: تم مجھے اس کی وجہ سے عیب لگاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ بلکہ سب سے بہترین جبہ پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر میں نے یہ آیت پڑھی، قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (الأعراف: 32) تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق، تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں، اور قیامت میں تو خاص انہیں کی ہے ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں علم والوں کے لیے (امام احمد رضا)۔ پھر اس کے بعد وہ مناظرہ ذکر کیا جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان لوگوں کے مابین ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7555]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7555 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (م): في دارهم.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص) اور (م) میں: "فی دارہم" کے الفاظ ہیں۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن عيسى المدائني، وقد خالف فيه الثقات، فزاد بين أبي زميل - وهو سماك بن الوليد الحنفي - وابنِ عباس عبدَ الله بنَ الدؤل، وابن الدؤل هذا لم نعرفه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند محمد بن عیسیٰ مدائنی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے اس میں ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے اور ابو زمیل (سماک بن ولید حنفی) اور ابن عباس کے درمیان "عبد اللہ بن دؤل" کا اضافہ کیا ہے، اور اس ابن دؤل کو ہم نہیں پہچانتے۔
وسلف على الصواب بدون ذكر ابن الدؤل برقم (2688) من طريق أبي أمية محمد بن إبراهيم الطرسوسي عن عمر بن يونس اليمامي.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت ابن دؤل کے ذکر کے بغیر درست سند کے ساتھ نمبر (2688) پر ابو امیہ محمد بن ابراہیم طرسوسی کے طریق سے گزر چکی ہے، جو عمر بن یونس یمامی سے روایت کرتے ہیں۔