المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. اعتموا تزدادوا حلما
پگڑی باندھا کرو، اس سے تمہارے حلم (بردباری) میں اضافہ ہوگا
حدیث نمبر: 7598
أخبرني الحسن بن حَليم (2) المروزَي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان أخبرنا عبد الله، أخبرنا يحيى بن أيوب، أنَّ عُبيد الله بن زَحْر حدَّثه عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أُمامة: أنَّ عمر بن الخطّاب دعا بقَميصٍ له جديد فلَبِسَه، فلا أحسَبُ بَلَغَ تَراقِيه حتى قال: الحمدُ لله الذي كَسَاني ما أُواري به عَوْرتي، وأتجمَّلُ به في حياتي، ثم قال: أتدرون لِمَ قلت هذا؟ رأيتُ رسول الله ﷺ دعا بثيابٍ جُدُدٍ فَلَبِسَها، قال: أحسَبُها بَلَغَت تَراقِيَه حتى قال مثلَ ما قلتُ، ثم قال:"والذي نفسي بيدِه، ما من عبدٍ مُسلمٍ لَبِسَ ثوبًا جديدًا ثم يقول مثلَ ما قلتُ، ثم يَعْمِدُ إِلى سَمَلٍ من أَخلاقِه الذي وَضَعَ فيَكسُوه إنسانًا مسكينًا مسلمًا فقيرًا، لا يكسوه إلَّا الله ﷿، إلَّا كان في جوار الله وفي ضَمانِ الله ما دام عليه منها سِلكٌ واحدٌ حيًا وميتًا (3) .
هذا حديث لم يحتج الشيخان بإسناده، ولم أذكُرْ أيضًا في هذا الكتاب مثلَ هذا، على أنه حديثٌ تفرَّد به إمام أهل خُراسان عبد الله بن المبارك (1) عن أئمّة أهلِ الشام ﵃ أجمعين، فآثرتُ إخراجه ليرغبَ المسلمون في استعماله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7410 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث لم يحتج الشيخان بإسناده، ولم أذكُرْ أيضًا في هذا الكتاب مثلَ هذا، على أنه حديثٌ تفرَّد به إمام أهل خُراسان عبد الله بن المبارك (1) عن أئمّة أهلِ الشام ﵃ أجمعين، فآثرتُ إخراجه ليرغبَ المسلمون في استعماله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7410 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوامامہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نئی قمیص منگوا کر پہنی، آپ نے وہ قمیص ابھی صحیح طرح پہنی بھی نہیں تھی کہ یہ دعا مانگی الْحَمْدُ لِلَّهُ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي ” تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس کے ساتھ میں نے اپنے ستر کو ڈھانپا، اور اس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کو خوبصورت کیا “ یہ دعا مانگنے کے بعد آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ میں نے یہ دعا کیوں پڑھی؟ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے، ابھی وہ کندھوں سے نیچے نہیں ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی دعا مانگی جو میں نے مانگی ہے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جب بھی کوئی مسلمان نیا کپڑا پہنے اور اسی طرح دعا مانگے جیسے میں نے مانگی ہے اور جو پرانے کپڑے اتارے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کسی غریب مسکین کو دے دے، جب تک اس کپڑے کا ایک دھاگہ بھی اس کے استعمال میں ہے تب تک دینے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے ذمہ کرم میں ہے۔ خواہ وہ زندہ ہو یا فوت ہو گیا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث کی اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کی۔ اور میں نے بھی اپنی اس کتاب میں ایسی احادیث نقل نہیں کی ہیں۔ علاوہ ازیں امام خراسان عبداللہ بن مبارک اس حدیث کو اہل شام کے ائمہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ اس لیے میں نے ان کی پیروی میں یہ حدیث نقل کر دی ہے تاکہ مسلمان اس کے استعمال میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7598]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7598 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "حکیم" لکھا گیا ہے (جو کہ غلطی ہے)۔
(3) إسناده ضعيف جدًا من أجل عبيد الله بن زحر وعلي بن يزيد الألهاني، وقال الدارقطني في "العلل" (2697): إسناده غير ثابت يحيى بن أيوب: هو الغافقي المصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبیداللہ بن زحر اور علی بن یزید ولہانی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ امام دارقطنی نے "العلل" (2697) میں فرمایا: "اس کی سند غیر ثابت ہے۔" 🔍 تعینِ راوی: یحییٰ بن ایوب سے مراد غافقی مصری ہیں۔
وهو في "الزهد" لعبد الله بن المبارك (749)، وعنه رواه هناد في "الزهد" (656).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت عبداللہ بن مبارک کی "الزہد" (749) میں ہے، اور ان سے ہناد نے اپنی "الزہد" (656) میں روایت کی ہے۔
ورواه مطّرح بن يزيد -وهو ضعيف- عن عبيد الله بن زحر عن القاسم بنحوه، عند هناد (657)، فأسقط منه عليًا الألهاني.
🧩 متابعات و شواہد: اسے مطرح بن یزید نے — جو کہ ضعیف ہے — عبیداللہ بن زحر سے، انہوں نے قاسم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے جو ہناد (657) کے پاس ہے، لیکن اس سند سے انہوں نے علی ولہانی کو گرا دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 1 / (305)، وابن ماجه (3557)، والترمذي (3560) من طريق أبي العلاء الشامي، قال: لبس أبو أمامة ثوبًا جديدًا، فذكره بنحوه، وقال الترمذي: غريب. قلنا: أبو العلاء مجهول.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [1/ (305)]، ابن ماجہ (3557) اور ترمذی (3560) نے ابوالعلاء شامی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: "ابو امامہ نے نیا لباس پہنا..." پھر اسی طرح ذکر کیا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے کہا: "یہ غریب ہے۔" ہم (محقق) کہتے ہیں: ابوالعلاء مجہول (نامعلوم) ہے۔
وانظر حديث علي في "مسند أحمد" (1353). السَّمَل: البالي من الثياب.
📖 حوالہ / مصدر: "مسند احمد" (1353) میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث ملاحظہ کریں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "السَّمَل": پرانے بوسیدہ کپڑوں کو کہتے ہیں۔
وثوبُ أخلاقٍ يصفون به الواحد إذا كانت الخُلُوقة فيه كله. انظر "اللسان" مادة (خلق).
📝 نوٹ / توضیح: "ثوب اخلاق" (واحد کپڑے کے لیے) اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ مکمل طور پر پرانا ہو چکا ہو۔ دیکھیے: "لسان العرب" مادہ (خلق)۔
(1) كذا قال المصنف، وليس كذلك فقد رواه أيضًا عن يحيى بن أيوب الغافقي سعيدُ بن أبي مريم عند الطبراني في "الدعاء" (393)، وفي مكارم الأخلاق" (191).
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے ایسا ہی کہا ہے (کہ فلاں راوی متفرد ہے)، لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے؛ کیونکہ یحییٰ بن ایوب غافقی سے اسے سعید بن ابی مریم نے بھی روایت کیا ہے جو طبرانی کی "الدعاء" (393) اور "مکارم الاخلاق" (191) میں موجود ہے۔
ورواه أيضًا عن عبيد الله بن زحر مطّرحُ بن يزيد عند هناد في "الزهد" (657)، وياسين الزيات عند ابن أبي الدنيا في "الشكر" (75)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (5874).
🧩 متابعات و شواہد: نیز اسے عبیداللہ بن زحر سے مطرح بن یزید نے ہناد کی "الزہد" (657) میں؛ اور یاسین زیات نے ابن ابی الدنیا کی "الشکر" (75) اور بیہقی کی "شعب الایمان" (5874) میں روایت کیا ہے۔