🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. لو أن شيئا كان فيه الشفاء من الموت لكان السنا
اگر کوئی چیز موت سے شفا دینے والی ہوتی تو وہ "سنا" (سنا مکی) ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7628
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان ابن صالح بمصر، حدثنا سعيد بن أبي مريم أخبرنا عبد الله بن فَرُّوخَ، حدثني ابنُ جُريج، عن سعيد بن عُقبة الزُّرقي، عن زُرْعة بن عبد الله بن زياد، أنَّ عمر بن الخطاب حدثه عن أسماءَ بنت عُميس: أنَّ رسول الله ﷺ دخل عليها ذاتَ يومٍ وعندها شُبْرُمٌ تدقُّه، فقال:"ما تَصنَعينَ به؟" فقالت: نَسقِيه فلانًا، فقال:"إنَّه داءٌ". قال: ودخَلَ عليه وعندها سَنَا، فقال:"ما تَصنَعين بهذا؟" فقالت: يشربُه فلانٌ، فقال:"لو أنَّ شيئًا يدفعُ الموت -أو ينفع من الموت- نَفَع السَّنَا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث البصريين عن أسماء بنت عُميس ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7440 - صحيح
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، ان کے پاس شبرم تھے اور وہ ان کو کوٹ رہی تھی۔ (شبرم، چنے سے ملتا جلتا دانہ ہوتا ہے بخار والے کو یہ پیس کر کھلایا جاتا ہے یا ابال کر اس کا پانی پلایا جاتا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں شخص کو یہ پلانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت کو روک سکتی یا موت کے معاملے میں کوئی فائدہ دے سکتی ہے، وہ سنا ہے۔ (یعنی سنا مکی) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ بصریین کی سیدہ اسماء بنت عمیس سے روایت کردہ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7628]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7628 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، سعيد بن عقبة الزرقي لم نعرفه، وزرعة بن عبد الله اختلف الرواة في اسمه، فسماه سعيد بن عقبة كما هنا: زرعة بن عبد الله بن زياد وسماه عبد الحميد بن جعفر الأنصاري في رواية حماد بن سلمة عنه: زرعة بن عبد الرحمن وسمي في روايتي محمد بن بكر البرساني وأبي بكر الحنفي عنه: عتبة بن عبد الله، وهو مجهول، وروايته عن عمر بن الخطاب مرسلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ سعید بن عقبہ زرقی کو ہم نہیں جانتے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: زرعہ بن عبداللہ کے نام میں راویوں کا اختلاف ہے؛ سعید بن عقبہ نے (جیسا کہ یہاں ہے) "زرعہ بن عبداللہ بن زیاد" کہا ہے؛ حماد بن سلمہ کی روایت میں عبدالحمید بن جعفر انصاری نے انہیں "زرعہ بن عبدالرحمن" کہا ہے؛ جبکہ محمد بن بکر برسانی اور ابوبکر حنفی کی روایات میں انہیں "عتبہ بن عبداللہ" کہا گیا ہے۔ یہ (زرعہ) مجہول ہے، اور اس کی حضرت عمر بن خطاب سے روایت مرسل (منقطع) ہے۔
وأخرجه أبو نعيم في "الطب النبوي" (610) عن سليمان بن أحمد الطبراني، عن يحيى بن عثمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابونعیم نے "الطب النبوی" (610) میں سلیمان بن احمد طبرانی کے طریق سے، عن یحییٰ بن عثمان اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عائشة عند أبي نعيم. أبي نعيم (611)، وسنده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابونعیم (611) میں روایت ہے، جس کی سند ضعیف ہے۔
السُّبرم. حبٌّ يسبه الحمص، يصبح ويشرب ماؤه للتداوي، وقيل: إنه نوع من الشِّيح. قاله ابن الأثير.
📝 نوٹ / توضیح: "السُّبرم": یہ چنوں جیسا ایک دانہ ہے، جسے بھگو کر اس کا پانی دوا کے طور پر پیا جاتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ "شیح" (ایک قسم کی گھاس) کی ایک قسم ہے۔ یہ بات ابن اثیر نے کہی ہے۔
السَّنا: نبات مُسهل، مشهور بالسنا المكيّ.
📝 نوٹ / توضیح: السنا: ایک دست آور (جلاب) بوٹی ہے، جو سنا مکی کے نام سے مشہور ہے۔