المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. عليكم بالبغيض النافع التلبينة .
تم اس ناپسندیدہ مگر فائدہ مند "تلبینہ" کو لازم کر لو
حدیث نمبر: 7644
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا محمد ويَعْلى ابنا عُبيد، قالا: حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: كان عند أُمِّ المؤمنين عائشةَ صبِيٌّ يَقطُرُ مَنْخِراهُ دمًا، فدخل رسول الله ﷺ فقال:"ما شأنُ هذا الصبيِّ؟" قالت: به العُذْرةُ، فقال:"وَيحَكُنَّ يا معشرَ النساءِ، لا تَقتُلنَ أولادَكنَّ، وأيُّ امرأةٍ بصبيِّها عُذرةٌ أو وَجِعَ رأسُه، فلتأخُذُ قُسْطًا هنديًّا"، قال: وأمر عائشةَ، ففعلت ذلك، فبَرَأَ. (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد أخرج البخاري أيضًا حديثَ الزُّهْري عن عُبيد الله بن عبد الله عن أُمِّ قيس بنت مِحصَن بنحو هذا مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7456 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد أخرج البخاري أيضًا حديثَ الزُّهْري عن عُبيد الله بن عبد الله عن أُمِّ قيس بنت مِحصَن بنحو هذا مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7456 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بچہ تھا، اس کے ناک سے خون آ رہا تھا، اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا حال پوچھا، ام المومنین نے کہا: اس کو عذرہ بیماری ہے (عذرہ حلق کی بیماری ہے، اسے تالو گرنا بھی کہا جاتا ہے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتو! تم ہلاک ہو جاؤ، تم اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو، جس عورت کو عذرہ کی بیماری ہو یا اس کے سر میں درد ہو اس کو چاہیے کہ قسط ہندی (ایک خاص قسم کی خوشبو ہے) استعمال کرے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین کو اسی کا حکم دیا، ام المومنین نے اس پر عمل کیا، تو وہ بچہ ٹھیک ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کے واسطے سے، عبیداللہ بن عبداللہ کے واسطے سے سیدنا ام قیس بنت محصن سے یہ حدیث مختصر روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7644]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7644 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان: وهو طلحة بن نافع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور ابو سفیان (طلحہ بن نافع) کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14385) عن أبي معاوية محمد بن خازم ويحيى بن أبي غَنيّة، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" 22/ (14385) میں ابو معاویہ محمد بن خازم اور یحییٰ بن ابی غنیہ کے طریق سے امام اعمش کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8445) من طريق الأعمش أيضًا.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے چل کر نمبر (8445) پر امام اعمش ہی کے طریق سے آئے گی۔
والعُذرة: وجعٌ في الحلق، وقيل: قرحة تخرج من الخرم الذي بين الأنف والحلق تعرضُ للصبيان.
📝 نوٹ / توضیح: "العُذرہ" گلے کی تکلیف (سوزش) کو کہتے ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایک دانہ یا زخم ہوتا ہے جو بچوں کے ناک اور گلے کے درمیانی حصے میں نکل آتا ہے۔
(2) هو عند الشيخين: البخاري (5692) ومسلم (2214)، ولفظه: "عليكم بهذا العُود الهندي، فإنَّ فيه سبعة أشفية: يُستعَط به من العُذرة، ويُلَدّ به من ذات الجَنب".
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث صحیحین (بخاری 5692 اور مسلم 2214) میں موجود ہے، جس کے الفاظ ہیں: "تم اس عودِ ہندی کو لازم پکڑو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے؛ گلے کی بیماری (عذرہ) کے لیے اسے ناک میں ڈالا جائے اور ذات الجنب کے لیے اسے منہ کے کونے سے پلایا جائے"۔