المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ .
تم اس ناپسندیدہ مگر فائدہ مند "تلبینہ" کو لازم کر لو
حدیث نمبر: 7642
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليّة، حدثنا محمد بن السائب بن بَرَكة المكي، عن أُمِّه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا أخذ أهلَه الوَعْكُ، أمرَ بالحَسَاء فصُنِع، ثم أمَرَهم فحَسَوْا منه، ويقول:"إِنَّهُ لَيَرْتُو فؤادَ الحَزين، ويَسرُو عن فؤادِ السَّقيم، كما تَسرُو إحداكُنَّ الوسخَ بالماء عن وجهِها" (1) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو کوئی درد ہوتا تو آپ حساء (ایک قسم کا کھانا ہے جو آٹے اور پانی سے بنایا جاتا ہے) بنانے کا حکم دیتے، جب یہ تیار ہو جاتا تو آپ ان کو کھانے کا حکم دیتے، وہ لوگ کھا لیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے، یہ پریشان کے دل کو فرحت بخشتا ہے اور بیمار کے دل کو سکون دیتا ہے۔ جیسا کہ تم عورتیں، پانی کے ساتھ اپنے چہرے کی میل کو دور کرتی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7642]
حدیث نمبر: 7643
وأخبرنا أبو عبد الله، حدثنا يحيى بن محمد [حدثنا مُسدَّد] (2) حدثنا المُعتمِر قال: سمعتُ أيمنَ المكّي يقول: حدثتني فاطمة بنتُ المنذر عن أُمِّ كُلثوم، عن عائشة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"عليكم بالبَغيضِ النافع؛ التَّلبينةِ، والذي نفسُ محمدٍ بيده، إنه لَيَغسِلُ بطنَ أحدِكم كما يَغسِلُ الوسخَ عن وجهِه بالماء". قالت: وكان النبيُّ ﷺ إذا اشتكى أحدٌ من أهلِه، لم تَزَلِ البُرْمةُ على النار حتى يقضيَ على أحدِ طَرَفَيهِ؛ إما موتٌ أو حياةٌ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّ مسلم بمحمد بن السائب، واحتجَّ البخاري بأيمن بن نابل المكي، ثم لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7455 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّ مسلم بمحمد بن السائب، واحتجَّ البخاري بأيمن بن نابل المكي، ثم لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7455 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کھانے کو لازم پکڑو جو مریض کو اچھا نہیں لگتا لیکن اس کا نفع بہت ہے، وہ ” تلبینہ “ (یعنی حریرہ) ہے (تلبینہ، اس کھانے کو کہتے ہیں جو دودھ چھلنی میں باقی ماندہ بھوسہ اور شہد سے رقیق کھانا تیار کیا جاتا ہے) اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، وہ تمہارے پیٹ کو ایسے صاف کر دیتی ہے جیسے پانی تمہارے چہرے کی میل کو صاف کر دیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ جب بھی آپ کے گھر والوں میں کسی کو درد وغیرہ ہوتا تو مسلسل ہنڈیا چولہے پر رہتی حتی کہ کوئی ایک فیصلہ ہو جاتا موت یا شفاء۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن سائب کی روایات نقل کی ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایمن بن نابل مکی کی روایات نقل کی ہیں لیکن دونوں نے، اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7643]
حدیث نمبر: 7644
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا محمد ويَعْلى ابنا عُبيد، قالا: حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: كان عند أُمِّ المؤمنين عائشةَ صبِيٌّ يَقطُرُ مَنْخِراهُ دمًا، فدخل رسول الله ﷺ فقال:"ما شأنُ هذا الصبيِّ؟" قالت: به العُذْرةُ، فقال:"وَيحَكُنَّ يا معشرَ النساءِ، لا تَقتُلنَ أولادَكنَّ، وأيُّ امرأةٍ بصبيِّها عُذرةٌ أو وَجِعَ رأسُه، فلتأخُذُ قُسْطًا هنديًّا"، قال: وأمر عائشةَ، ففعلت ذلك، فبَرَأَ. (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد أخرج البخاري أيضًا حديثَ الزُّهْري عن عُبيد الله بن عبد الله عن أُمِّ قيس بنت مِحصَن بنحو هذا مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7456 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه. وقد أخرج البخاري أيضًا حديثَ الزُّهْري عن عُبيد الله بن عبد الله عن أُمِّ قيس بنت مِحصَن بنحو هذا مختصرًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7456 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بچہ تھا، اس کے ناک سے خون آ رہا تھا، اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کا حال پوچھا، ام المومنین نے کہا: اس کو عذرہ بیماری ہے (عذرہ حلق کی بیماری ہے، اسے تالو گرنا بھی کہا جاتا ہے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورتو! تم ہلاک ہو جاؤ، تم اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو، جس عورت کو عذرہ کی بیماری ہو یا اس کے سر میں درد ہو اس کو چاہیے کہ قسط ہندی (ایک خاص قسم کی خوشبو ہے) استعمال کرے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین کو اسی کا حکم دیا، ام المومنین نے اس پر عمل کیا، تو وہ بچہ ٹھیک ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کے واسطے سے، عبیداللہ بن عبداللہ کے واسطے سے سیدنا ام قیس بنت محصن سے یہ حدیث مختصر روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7644]