🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. الحجم خير ما تداويتم به .
حجامہ کروانا ان بہترین چیزوں میں سے ہے جن سے تم علاج کرتے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7656
أخبرنا أبو العباس محمد بن محمود (1) المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عبد الملك ابن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخل أعرابيٌّ من بني فَزارة من بني أُمِّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامٌ يَحجُمُه بمَحاجِمَ (2) له من قُرون، يَشرِطُ بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله؟ لِمَ تَدَعُ هذا يقطعُ عليك جِلدَك؟ قال:"هذا الحَجْمُ، وهو خيرُ ما تداويتُم به" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه شُعبةُ بن الحجَّاج العَتَكيُّ وزهير بن معاوية الجُعْفيُّ عن عبد الملك ابن عُمير. أما حديثُ شُعبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7467 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی ام قرفہ میں سے بنی فزارہ کا ایک دیہاتی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، ایک حجام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں پچھنے لگا رہا تھا۔ وہ چھری کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں نشتر لگا رہا تھا۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ یہ کس قسم کا علاج کروا رہے ہیں؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کو یہ اجازت کیوں دے رکھی ہے کہ یہ آپ کی جلد کاٹ رہا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حجامت ہے، اور تمہارے علاجوں میں، یہ طریقہ علاج سب سے بہتر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیھما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث شعبہ بن حجاج عتکی اور زہیر بن معاویہ جعفی نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کیا ہے۔ شعبہ کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7656]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7656 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ الخطية، وهو محمد بن أحمد بن محبوب، ليس في اسمه محمود، ولعله محرَّف عن محبوب، فيكون نسبه إلى جده.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، لیکن اصل نام "محمد بن احمد بن محبوب" ہے، اس میں محمود کا نام نہیں، شاید یہ محبوب سے تحریف ہو گیا ہے یا ان کی نسبت دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔
(2) في (ص) و (م): بحاجم.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ص) اور (م) میں لفظ "بحاجم" واقع ہوا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 33 / (20173) عن حسن بن موسى الأشيب، عن شيبان بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (20173) میں حسن بن موسیٰ الاشیب کے طریق سے شیبان بن عبد الرحمن کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (20212) من طريق جرير بن حازم، عن عبد الملك بن عمير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (20212) میں جریر بن حازم کے طریق سے عبد الملک بن عمیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طرق عن عبد الملك بن عمير في المواضع التالية.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت عبد الملک بن عمیر کے مختلف طرق سے درج ذیل مقامات پر آئے گی۔
وأخرجه أحمد (20205) من طريق عوف بن أبي جميلة، عن شيخ من بكر بن وائل، عن سمرة، به مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" (20205) میں عوف بن ابی جمیلہ کے طریق سے، انہوں نے قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شیخ سے اور انہوں نے حضرت سمرہ بن جندب سے مختصراً روایت کیا ہے۔