🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. الحجم خير ما تداويتم به .
حجامہ کروانا ان بہترین چیزوں میں سے ہے جن سے تم علاج کرتے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7659
أخبرَناه محمد بن يعقوب الأخرَم، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُلَيّة، حدثنا داود بن نُصَير، عن عبد الملك بن عُمير، عن حُصين بن أبي الحُرّ، عن سَمُرة قال: دخلَ أعرابيٌّ من بني فَزَارة من بني أُمَّ قِرْفة على رسول الله ﷺ، فإذا حجَّامُ يَحجُمُه بمَحاجمَ له من قُرون فشَرَطه (3) بشَفْرةٍ، فقال: ما هذا يا رسولَ الله، لِمَ تَدَعُ هذا يقطَعُ عليك جِلدَك؟ قال:"هذا الحَجْمُ" قال: وما الحجمُ؟ قال:"خيرُ ما تَداوَى به النَّاسُ" (4) .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی ام قرفہ میں سے بنی فزارہ کا ایک دیہاتی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک حجام اپنے اوزار کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگا رہا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چھری کے ساتھ نشتر لگا رہا تھا۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے؟ آپ نے اس کو یہ اجازت کیوں دے رکھی ہے؟ یہ آپ کی جلد کو کاٹ رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حجامت ہے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجامت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جو علاج کرواتے ہیں، ان میں سب سے اچھا طریقہ علاج حجامت (پچھنے لگوانا) ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7659]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7659 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في النسخ الخطية أشرطه والمثبت من رواية النسائي، وفي الطبعة الهندية: يشرط.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "أشرطه" (میں اسے پچھنے لگاؤں گا) ہے، جبکہ متن میں امام نسائی کی روایت سے لفظ ثابت کیا گیا ہے، اور ہندوستانی ایڈیشن میں "يشرط" واقع ہوا ہے۔
(4) إسناده صحيح. وأخرجه النسائي (7552) عن حماد بن إسماعيل بن إبراهيم، عن أبيه -وهو ابن علية -بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (7552) میں حماد بن اسماعیل بن ابراہیم کے طریق سے، انہوں نے اپنے والد (اسماعیل بن علیہ) سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔