🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. الحجامة تزيد فى العقل والحفظ .
حجامہ عقل اور قوتِ حافظہ میں اضافہ کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7669
حدثنا أبو بكر محمد بن سليمان الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد الرازي وجعفر بن محمد الفِريابي (1) وزكريا بن يحيى الساجِي، قالوا: حدثنا أبو الخطّاب زياد بن يحيى الحَسّاني، حدثنا غَزال بن محمد، عن محمد بن جُحَادة، عن نافع، عن ابن عمر؛ قال نافع قال لي ابنُ عمر: يا نافعُ، أبغني حجَّامًا لا يكون غلامًا صغيرًا، ولا شيخًا كبيرًا، فإنَّ الدَّمَ قد تَبيَّغَ بي، وإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الحِجامةُ تزيد في العَقْل، وتزيد في الحِفْظ، فعَلَى اسمِ الله يومَ الخميس، لا تَحتجِمُوا يومَ الجُمعة ولا يومَ السبت ولا يومَ الأحد، واحتجِمُوا يومَ الاثنينِ والثُّلاثاء، وما نزلَ جُذامٌ ولا بَرَصٌ إِلَّا في ليلة الأربعاء" (2) . رُواة هذا الحديث كلهم ثِقات إلَّا غزال بن محمد، فإنه مجهول لا أعرفه بعدالة ولا جَرْح. وقد صحَّ الحديثُ عن ابن عمر ﵄ من قولِه من (1) غير مسنَد ولا متصل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7479 - غزال بن محمد مجهول
سیدنا نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے فرمایا: میرے لئے کوئی حجام ڈھونڈ کر لاؤ، جو نہ بہت چھوٹا ہو اور نہ بہت بوڑھا ہو، کیونکہ میرا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا ہے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حجامہ، عقل کو تیز کرتا ہے اور حافظہ مضبوط کرتا ہے، اللہ کے نام پر جمعرات کے دن پچھنے لگواؤ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو پچھنے مت لگواؤ، سوموار اور منگل کو لگواؤ، اور جذام اور برص بدھ کی رات میں پیدا ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ سوائے غزال بن محمد کے، کہ یہ مجہول ہیں اور مجھے اس کی عدالت اور جرح پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہی حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اپنے قول سے صحیح ثابت ہے۔ وہ نہ مسند ہے نہ متصل۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7669]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7669 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى العرياني.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "العریانی" ہو گیا ہے۔
(2) إسناده واهٍ، غزال بن محمد، ويقال: عذَّال، بمهملة ثم ذال معجمة مشددة، هكذا ذكره ابن ناصر الدين الدمشقي في "توضيح المشتبه"، وابن حجر في "تبصير المنتبه"، والذهبي في "الميزان" وقال: لا يُدرى من هو ذكره أحمد بن علي السليماني فيمن يضع الحديث، وذكر له هذا الحديث. ثم أعاده فيه باسم غزال بن محمد كما وقع هنا عند المصنف، وقال: لا يُعرف، وخبره منكر في الحجامة. وقال البزار: لم يرو عنه غير هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی کا نام غزال بن محمد ہے، جسے عذّال بھی کہا گیا ہے۔ امام ذہبی نے فرمایا کہ یہ معلوم نہیں کہ یہ کون ہے، البتہ احمد بن علی السلیمانی نے اسے حدیث گھڑنے والوں میں شمار کیا ہے اور یہی حدیث اس کے حوالے سے ذکر کی ہے۔ اس کی حجامہ سے متعلق یہ خبر "منکر" ہے اور امام بزار کے مطابق اس سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (5968)، وأبو نعيم في "الطب النبوي" (297)، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (1463) من طريق زياد بن يحيى الحساني، بهذا الإسناد. ورواية البزار مختصرة. ووقع في المطبوع من "الطب النبوي" و "العلل المتناهية" سقط واضطراب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار نے "مسند" (5968)، ابو نعیم نے "الطب النبوی" (297) اور ابن الجوزی نے "العلل المتناہیہ" (1463) میں زیاد بن یحییٰ الحسانی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "الطب النبوی" اور "العلل المتناہیہ" کے مطبوعہ نسخوں میں سقط (عبارت گرنا) اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3487)، وابن حبان في "المجروحين" 2/ 100، وابن عدي في "الكامل" 2/ 308 و 5/ 163، والخطيب مختصرًا في الفقيه والمتفقه" (873) من طريق عثمان بن مطر، عن الحسن بن أبي جعفر، عن محمد بن جحادة به. وهذا إسناد واهٍ أيضًا، عثمان والحسن متفق على ضعفهما صاحبا مناكير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3487)، ابن حبان "المجروحین" اور ابن عدی نے "الکامل" میں عثمان بن مطر عن الحسن بن ابی جعفر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند بھی واہی ہے، کیونکہ عثمان اور حسن دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے اور یہ دونوں منکر روایات بیان کرنے والے ہیں۔
وسيأتي عند المصنف برقم (8460) من طريق عبد الملك بن عبد ربه، عن أبي علي عثمان بن جعفر، عن محمد بن جحادة. كذا سمّى عثمان بن مطر: عثمان بن جعفر، وأسقط الواسطة بينه وبين ابن جحادة، ورواه ابن عدي في "الكامل" 5/ 193 من طريق عبد الملك بن عبد ربه فقال: حدثنا أبو علي المكفوف واسمه عثمان عن الحسن بن أبي جعفر عن محمد بن جحادة، فذكره. وأبو علي المكفوف عثمان: هو ابن مطر، وهو متفق على ضعفه متروك، وأما عثمان بن جعفر فلا يعرف إلَّا في إسناد هذا الخبر عند الحاكم، ويغلب على ظننا أن الراوي عنده أخطأ في تسميته، والصواب: عثمان بن مطر.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (8460) پر بھی آئے گی۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں عثمان بن مطر کا نام "عثمان بن جعفر" لکھا گیا ہے اور واسطہ بھی ساقط ہے۔ حقیقت میں ابو علی المكفوف عثمان سے مراد "عثمان بن مطر" ہی ہیں جو کہ متروک اور متفق علیہ ضعیف راوی ہیں۔ عثمان بن جعفر نامی کسی راوی کی پہچان نہیں ہے، غالب گمان ہے کہ راوی کو نام لینے میں غلطی ہوئی ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3488) من طريق عبد الله بن عصمة عن سعيد بن ميمون، عن نافع به. وهذا إسناد ضعيف جدًا، عبد الله وسعيد مجهولان، وفيه أيضًا راوٍ ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند شدید ضعیف ہے کیونکہ عبد اللہ بن عصمہ اور سعید بن میمون دونوں "مجہول" ہیں، اور اس میں ایک اور ضعیف راوی بھی ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7671) من طريق أبي صالح عبد الله بن صالح، عن عطّاف بن خالد، عن نافع، به. وأعلّه أبو حاتم بقوله: هو مما أُدخل على أبي صالح.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (7671) پر ابو صالح عبد اللہ بن صالح کے طریق سے آئے گی۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ابو حاتم نے اس پر یہ کہہ کر علت لگائی ہے کہ یہ ان روایات میں سے ہے جو ابو صالح کی کتابوں میں (دوسروں کی طرف سے) داخل کر دی گئی تھیں۔
وأخرجه بنحوه أبو حاتم الرازي -كما في "العلل" لابنه (2330) و (2346) - من طريق محمد ابن إسماعيل المرادي، عن أبيه، عن نافع، عن ابن عمر موقوفًا. وقال: حديث باطل، ومحمد وأبوه مجهولان.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ابو حاتم رازی نے اسے "باطل حدیث" قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی محمد اور ان کے والد دونوں "مجہول" ہیں۔
وأخرجه بنحوه أبو حاتم -كما في "العلل" لابنه (2477) تعليقًا- والدينوري في "المجالسة" (631)، وابن حبان في "المجروحين" 3/ 20 - 21 من طريق إسماعيل بن إبراهيم، عن المثنى ابن عمرو، عن أبي سنان، عن أبي قلابة، عن ابن عمر مرفوعًا. قال أبو حاتم الرازي: ليس هذا الحديث بشيء، ليس هو حديث أهل الصدق، وإسماعيل والمثنى مجهولان. وقال ابن حبان: المثنى بن عمرو يروي عن أبي سنان ما ليس من حديث الثقات، لا يجوز الاحتجاج به. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ابو حاتم نے فرمایا کہ اس حدیث کی کوئی حیثیت نہیں (ليس بشيء) اور یہ سچے لوگوں کی حدیث نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسماعیل اور مثنیٰ مجہول ہیں۔ امام ابن حبان کے مطابق مثنیٰ بن عمرو ثقہ راویوں کی مخالفت میں روایت کرتا ہے، لہذا اس سے احتجاج جائز نہیں۔
قوله: "تبيّغ"، ويقال أيضًا: تَبوَّغ: إذا تردَّد الدم وتحيّر في مجراه.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "تبيّغ" یا "تبوّغ" کا مطلب ہے جب خون اپنی نالیوں میں جوش مارے، ٹھہر جائے یا اس کا بہاؤ بے ترتیب ہو جائے۔