🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. الحجامة على الريق أمثل .
نہار منہ حجامہ کروانا زیادہ بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7670
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازي، حدثنا محمد بن عمر ابن علي المُقدَّمي، حدثنا عبد الله بن هشام الدَّستُوائي، حدثني أبي، عن أيوب، عن نافع قال: قال لي ابنُ: عمر يا نافعُ، اذهَبْ فأتِني بحجَّام، ولا تأتِني بشيخٍ كبير، ولا غلام صغير، وقال: احتَجِمُوا يومَ الخميس على بركةِ الله، واحتَجِموا يومَ الجمعة (1) ، ولا تَحتجِموا يومَ السبت، واحتجموا يوم الأحد والاثنين والثلاثاء، ولا تَحتجِموا يومَ الأربعاء، فإنَّه لم يَبْدُ جُذامٌ ولا بَرَضٌ إلَّا في ليلة الأربعاءِ ويومِ الأربعاء (2) . وقد أسند هذا الحديث عطَّافُ بن خالد المخزومي عن نافع:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7480 - عبد الله بن هشام الدستوائي متروك
سیدنا نافع فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے فرمایا: اے نافع! جاؤ، اور کوئی حجام میرے پاس لاؤ، کوئی بہت بوڑھا بھی نہیں لانا اور بہت چھوٹا بچہ بھی نہیں لانا، اور فرمایا: ہفتے کے دن پچھنے لگواؤ، اتوار کے دن لگواؤ، سوموار کے دن اور منگل کے دن بھی لگوا سکتے ہو۔ اور بدھ کے دن پچھنے مت لگواؤ۔ ٭٭ اس حدیث کو عطاف بن خالد مخزومی نے سیدنا نافع سے مسند بھی کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7670]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7670 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا في النسخ، والجادة أن تحذف "من".
📌 اہم نکتہ: نسخوں میں اسی طرح ہے، لیکن معروف طریقہ (الجادہ) یہ ہے کہ یہاں سے لفظ "من" حذف کر دیا جائے۔
(1) قوله: "واحتجموا يوم الجمعة" لم يرد في (ص) و (م).
📌 اہم نکتہ: "جمعہ کے دن حجامہ کرو" کے الفاظ نسخہ (ص) اور (م) میں نہیں ہیں۔
(2) إسناده ضعيف جدًا، عبد الله بن هشام الدستوائي قال أبو حاتم: متروك الحديث، وقال الساجي: فيه ضعف لم يكن صاحب حديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"، وتساهل ابن حبان فذكره في "ثقاته"!
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند شدید ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن ہشام الدستوائی "متروک الحدیث" ہے۔ امام ذہبی نے بھی اسے علت زدہ قرار دیا، جبکہ ابن حبان نے تساہل سے کام لیتے ہوئے اسے "الثقات" میں ذکر کر دیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني في "الأفراد" كما في "اللآلئ المصنوعة" 2/ 342، ومن طريقه ابن الجوزي في "العلل المتناهية" (1465) من طريق عمر بن شبة، عن عبد الله بن هشام الدستوائي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے "الافراد" میں اور ابن الجوزی نے "العلل المتناہیہ" (1465) میں عمر بن شبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقال: تفرد به عبد الله بن هشام عن أبيه عن أيوب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن ہشام اسے اپنے والد سے اور وہ ایوب سے روایت کرنے میں منفرد ہے۔