🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. إذا اشتد الحر فاستعينوا بالحجامة .
جب گرمی شدت اختیار کر جائے تو حجامہ سے مدد حاصل کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7671
حدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، حدثنا عَطَّاف بن خالد عن نافع: أنَّ عبد الله بن عمر قال له يا نافعُ تَبيَّغ بي الدَّمُ، فأتني بحجام [ولا تجعله صبيًّا] (3) ولا شيخًا كبيرًا، فإنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"الحِجامةُ على الرِّيق أمثلُ، وفيها شِفاءٌ وبَرَكة، وهي تزيد في العَقْل، وتزيد في الحِفْظ، وتزيد الحافظَ حفظًا، فمن كان مُحتجمًا على اسم الله، فليَحتجِمْ يومَ الخميس، واجتَنِبوا الحِجامة يومَ الجمعة، ويومَ السبت، ويومَ الأحد، واحتجِمُوا يومَ الاثنين، ويومَ الثلاثاء، فإنه اليومُ الذي صَرَفَ الله عن أيوبَ فيه البَلَاء، واجتَنِبوا الحِجامةَ يومَ الأربعاء، فإنَّه اليومَ الذي ابتلى الله أيوبَ فيه بالبلاء، وما يَبدُو جُذامٌ ولا بَرَصٌ إِلَّا في يوم الأربعاء -أو في ليلة الأربعاء-" (4) .
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: میرا بلڈ پریشر بہت ہائی ہو رہا ہے۔ اس لئے کسی حجام کو بلا کر لاؤ، وہ بہت بوڑھا بھی نہ ہو اور بالکل بچہ بھی نہ ہو، کیونکہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نہار منہ پچھنے لگوانا کم تکلیف دہ ہے، اور اس میں شفاء بھی ہے، برکت بھی ہے۔ یہ عقل کو بڑھاتی ہے اور حافظہ مضبوط کرتی ہے، اس لئے جو اللہ کے نام پر پچھنے لگوانا چاہے، اس کو چاہیے کہ جمعرات کے دن پچھنے لگوائے، اور جمعہ کے دن، ہفتہ کے دن اور اتوار کے دن پچھنے لگوانے سے گریز کرنا چاہیے۔ سوموار کو اور منگل کو پچھنے لگواؤ، کیونکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور فرمائی تھی، بدھ کے دن بھی پچھنے لگوانے سے بچو، کیونکہ اس دن سیدنا ایوب علیہ السلام بیماری میں مبتلا ہوئے تھے۔ اور جذام اور برص بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو پیدا ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7671]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7671 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) ما بين المعقوفين زدناه من مصادر التخريج وبه يتم المعنى.
📌 اہم نکتہ: بریکٹ میں دی گئی عبارت دیگر مصادر سے لی گئی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو سکے۔
(4) ضعيف جدًا، عبد الله بن صالح -وهو أبو صالح كاتب الليث- المصري وعطاف بن خالد سيِّئا الحفظ، وبرَّأهما أبو حاتم الرازي من عُهدة هذا الحديث، فقال كما في "العلل" لابنه (2346): هو مما أُدخل على أبي صالح. قلنا: ذكر ابن حبان أنه كان له جار يكتب بخط يشبه خط أبي صالح، ويرميه في داره بين كتبه، فيظن أنه خطه فيحدِّث به.
⚖️ درجۂ حدیث: شدید ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن صالح (کاتبِ لیث) اور عطاف بن خالد دونوں کا حافظہ انتہائی کمزور ہے۔ امام ابو حاتم نے ان کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث ان کی اپنی نہیں بلکہ کسی نے ان کی کتابوں میں شامل کر دی تھی۔ امام ابن حبان کے مطابق ان کا ایک پڑوسی ان کے خط سے ملتا جلتا خط لکھ کر کتابوں میں کاغذ پھینک دیتا تھا، جسے وہ اپنا سمجھ کر روایت کر دیتے تھے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (5969)، والطبري في مسند ابن عباس من "تهذيب الآثار" 1/ 511، والإسماعيلي في "معجمه" (302)، والخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 11/ 223 من طرق عن عبد الله بن صالح بهذا الإسناد. وروايتهم مختصرة إلَّا البزار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار، طبری، اسماعیلی اور خطیب بغدادی نے عبد اللہ بن صالح کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے، البتہ بزار کے علاوہ باقی سب کی روایات مختصر ہیں۔