المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. الدعاء عند عيادة المريض وأدبها .
بیمار پرسی کے وقت کی دعا اور اس کے آداب
حدیث نمبر: 7678
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا يزيد ابن هارون، أخبرنا الحَجّاج بن أَرْطاة، عن المِنْهال بن عمرو، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس، عن رسول الله ﷺ قال:"من عاد مريضًا فقال: أَسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم أن يَشفِيَك؛ سبعًا، عُوفِيَ إن لم يكن حَضَرَ أَجَلُه" (2) . وقد رواه أبو خالد الدَّالَاني ومَيْسرةُ بن حَبيب النَّهدي عن المِنهال بن عمرو عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس. أما حديث [أبي] (3) خالد:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا مانگی أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ سَبْعًا اگر اس کی موت نہ آئی ہوئی ہو گی تو اس کی شفاء مل جائے گی۔ ٭٭ اس حدیث کو ابوخالد الدالانی اور میسرہ بن حبیب النہدی نے منہال بن عمرو کے ذریعے سعید بن جبیر کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ سیدنا خالد کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7678]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7678 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث جيد كسابقه والحجاج بن أرطاة ليس بذاك القوي خاصة عند المخالفة، وقد خولف كما سلف بيانه عند الحديث (1285).
⚖️ درجۂ حدیث: سابقہ روایت کی طرح یہ بھی جید ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حجاج بن ارطاہ قوی راوی نہیں ہیں، بالخصوص جب وہ ثقہ راویوں کی مخالفت کریں، جیسا کہ حدیث (1285) میں بیان ہوا۔
وسلف برقم (1286) من طريق يزيد بن هارون.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (1286) پر یزید بن ہارون کے طریق سے گزر چکی ہے۔
(3) سقطت من النسخ الخطية.
📌 اہم نکتہ: یہ حصہ قلمی نسخوں سے ساقط ہے۔