🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. الدعاء عند عيادة المريض وأدبها .
بیمار پرسی کے وقت کی دعا اور اس کے آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7677
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربِّه بن سعيد، حدثني المِنْهال بن عمرو، أخبرني سعيد بن جُبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس قال: كان النبيُّ ﷺ إذا عاد المريضَ جلسَ عند رأسِه، ثم قال سبعَ مرَّات:"أَسأَلُ اللهَ العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفِيَكَ"، فإن كان في أجله تأخيرٌ، عُوفِيَ من وَجَعِه ذلك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، ولم يُتابِع عمرَو بن الحارث على ذِكر عبد الله بن الحارث (1) بين سعيد وابن عباس أحدٌ، إنما رواه الحجّاج بن أَرْطاة عن المنهال عن عبد الله بن الحارث، ولم يذكر بينهما سعيدَ بن جبير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7487 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو اس کے سر کے قریب بیٹھ جاتے تو سات مرتبہ یہ دم کرتے۔ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ میں عرش عظیم کے رب، اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا مانگتا ہوں کہ وہ تجھے شفاء عطا فرمائے اگر اس کی موت کا وقت نہ آیا ہوتا تو اس کو اس تکلیف سے فوراً آرام آ جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سعید اور ابن عباس سے روایت کرنے میں کسی نے بھی عمرو بن حارث کی پیروی نہیں کی۔ تاہم اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ نے منہال کے ذریعے عبداللہ بن الحارث سے اس کو روایت کیا ہے اور انہوں نے ان دونوں کے درمیان سعید بن جبیر کا نام نہیں لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7677]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7677 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث جيد، وسبق الكلام على إسناده عند الرواية السالفة برقم (1285).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "جید" (عمدہ) حدیث ہے، اس کی سند پر تفصیلی کلام روایت نمبر (1285) میں ہو چکا ہے۔
(1) قوله: "على ذكر عبد الله بن الحارث" سقط من (ز).
📌 اہم نکتہ: یہ الفاظ نسخہ (ز) میں موجود نہیں ہیں۔