المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. إذا رأى أحدكم من نفسه أو أخيه ما يحب فليبرك .
جب تم میں سے کوئی اپنے آپ میں یا اپنے بھائی میں کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو برکت کی دعا دے
حدیث نمبر: 7688
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي (1) ، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن المَدِيني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن دُوَيد (2) ، عن إسماعيل بن ثَوْبان، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"العَيْنُ حَقٌّ تَستَنزِلُ الحالِقَ (3) " (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7498 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7498 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: نظر برحق ہے۔ یہ بہت تیز اثر کرتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7688]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7688 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في (ص) إلى: العنبري.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "العنبری" ہو گیا ہے۔
(2) تحرف في النسخ الخطية إلى: دريد.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ نام "درید" تحریف ہوا ہے۔
(3) لفظ "الحالق" مكانه في (ز) بياض.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں لفظ "الحالق" کی جگہ خالی (بیاض) چھوڑی گئی ہے۔
(4) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دُويد -وهو البصري- ليّنه أبو حاتم، وإسماعيل بن ثوبان روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ دوید (البصری) کو ابو حاتم نے "لین" (کمزور) قرار دیا ہے، جبکہ اسماعیل بن ثوبان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 4 / (2478) و (2681) عن عبد الله بن الوليد العدني، عن سفيان الثَّوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند 4 / (2478) اور (2681) میں عبد اللہ بن الولید العدنی کے طریق سے، انہوں نے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا 4 / (2477) عن أبي أحمد الزبيري، عن سفيان، عن رجل، عن جابر بن زيد، به. ليس فيه إسماعيل بن ثوبان، وأبهم دويدًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 4 / (2477) پر ابو احمد الزبیری کے طریق سے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے ایک نامعلوم شخص (رجل) سے، اور انہوں نے جابر بن زید سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں اسماعیل بن ثوبان کا ذکر نہیں ہے اور دوید کا نام بھی مبہم (غیر واضح) رکھا گیا ہے۔
وأخرج مسلم (2188) من طريق طاووس، عن ابن عباس مرفوعًا: "العين حق، ولو كان شيءٌ سابقَ القَدَر سبقته العين".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2188) پر طاؤوس کے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: "نظرِ بد (العین) حق ہے، اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظرِ بد ہوتی"۔
وفي الباب عن أبي ذر مرفوعًا: "إنَّ العين لتُولَعُ الرجلَ بإذن الله، حتى يصعدَ حالقًا ثم يتردّى".
🧾 تفصیلِ روایت: اسی باب میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: "بے شک نظرِ بد اللہ کے حکم سے انسان پر اس طرح مسلط ہوتی ہے کہ وہ (بدحواسی میں) بلند پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اور پھر وہاں سے نیچے گر جاتا ہے"۔
أخرجه أحمد 35 / (21302)، وفي سنده مِحجن غير منسوب راويه عن أبي ذر، لم يوثقه سوى ابن حبان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 35 / (21302) میں روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں "محجن" نامی راوی غیر منسوب (مجہول النسب) ہے جس نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابن حبان کے علاوہ کسی نے اس کی توثیق نہیں کی۔
والحالق: هو الجبل.
📝 نوٹ / توضیح: "الحالق" سے مراد اونچا پہاڑ ہے۔